ایرانی لڑکی کے اپنے والد کے ہاتھوں حالیہ قتل نے ایران میں صنفی تفریق اور ملک کے فرسودہ نظام کو اجاگر کیا ہے۔ لیکن مذہبی حکام کسی بھی تبدیلی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مئی کے اوآخر میں، شمالی ایران کے ایک گاؤں میں ایک خوفناک جرم پیش آیا، جب 37 سالہ رضا اشرفی نے نام نہاد "غیرت کے نام پر” اپنی ہی بیٹی کا سر قلم کیا۔ اگرچہ اس طرح کے واقعات ایران کے لیے نئے نہیں ليکن خود گھر والے ہی ظلم کا شکار ہونے والی آوازوں کو خاموش کروا ديتے ہیں۔ اس تازہ ترين کیس نے لیکن روایتی میڈیا اور سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز دونوں کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔چودہ سالہ رومینہ، ایک 29 سالہ شخص کے ساتھ چھپ چھپا کر گھر سے بھاگ گئی تھی۔ اس شخص نے بعد میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ پانچ سال سے رومینہ کی محبت میں گرفتار تھا۔ رومینہ کے اہل خانہ نے اس شخص کو اس سے شادی کی اجازت نہیں دی تھی، اگرچہ اگر اس کے والد نے رضامندی دی ہوتی تو قانونی طور پر یہ ممکن ہوتا۔ ایران میں شادی کی قانونی عمر خواتین کے لیے 13 سال ہے۔ رومینہ کے لاپتہ ہونے کے پانچ دن بعد، پولیس نے جوڑے کو تلاش کیا اور بچی کو واپس اس کے والد کے پاس پہنچا دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس کے بعد رومینہ کی والدہ نے اپنے شوہر کو رومینہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ خود کو ہلاک کرلے، ورنہ وہ ایسا کردے گا۔ تاہم، ماں نے اپنی بیٹی کو بچانے کے ليے کچھ نہیں کیا۔ رومینہ کے وحشیانہ قتل کے بعد، رشتہ داروں نے "معزز” والد کے نام پر رومینہ کی آخری رسومات کا اہتمام کیا
