ٹڈی کی سونامی، پی ٹی آئی حکومت کا انوکھا مشورہ

ٹڈی کی سونامی، پی ٹی آئی حکومت کا انوکھا مشورہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے لوگوں کو ترغیب دی جائے گی وہ کہ ٹڈی دل کو مارنے کی بجائے ان کیڑوں کو پکڑ کر پولٹری فارمز کو بیچیں تاکہ انہیں مرغیوں کی خوراک میں استعمال کیا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اس تجویز کی منظوری منگل کو کابینہ کے اجلاس میں دی۔ اس منصوبے کے تحت لوگوں کو ٹڈیاں پکڑنے کی ترغیب دی جائے گی اور وہ یہ کیڑے پندرہ روپے فی کلو کے حساب سے بیچ سکیں گے۔ ایک بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ ٹڈی دل کے باعث زرعی شعبے میں ہونے والی تباہی سے نئے کاروباری مواقع پیدا کیے جائیں۔ حکام کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف ان کیڑوں کی یلغار سے نمٹنے اور مرغیوں کی افزائش میں مدد ملے گی بلکہ بیروزگار لوگوں کو کچھ کمانے کا موقع بھی ملے گا۔ پہلے پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا، جس کے تحت مقامی لوگوں سے کہا گیا کہ وہ تھیلوں میں ٹڈیاں پکڑ کر لائیں اور ان سے یہ ٹڈیاں بیس روپے کلو کے حساب سے خرید لی جائیں گی۔ اس پروجیکٹ کے تحت کیڑوں کو مرغیوں کی خوراک بنانے والی کمپنوں کو بیچ دیا گیا۔ حکام کے مطابق ٹڈیوں سے بنائی گئی مرغیوں کی فیڈ اچھی، بہتر اور سستی ثابت ہوئی اور پروجیکٹ کافی کامیاب ثابت ہوا۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے فِش فارمز اور پولٹری فارمز میں دی جانی والی خوراک میں زیادہ تر برآمد شدہ سویابین استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق اس میں ٹڈیوں کے مقابلے میں پروٹین کافی کم ہوتا ہے اور وہ فیڈ مہنگی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے میں ٹڈیوں سے نہ صرف سستی بلکہ بہتر خوراک بنائی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ جون کے پہلے دو ہفتوں میں ایران اور مسقط سے مزید ٹڈی دل پاکستان کا رخ کریں گے، جس سے فصل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ ان ٹڈیوں کی افزائش پچھلے سال سعودی عرب اور یمن کے صحراؤں میں ہوئی تھی، جس کے بعد اَن اُڑتے کیڑوں نے افریقی ملکوں ایتھوپیا، صومالیہ، کینیا، تنزانیہ اور یوگنڈا میں بھی تباہی مچائی۔پچھلے چھ ماہ کے دوران ٹڈیوں کی یلغار نے پاکستان کے کوئی اٹھاسی اضلاع میں فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے، جس میں سب سے زیادہ متاثر صوبہ بلوچستان ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا، سندھ اور پنجاب میں بھی ٹڈیوں نے وسیع علاقوں میں فصلوں کو تباہ کیا ہے۔صورتحال کے پیش نظر حکومت پاکستان نے فروری کی شروعات میں ایمرجنسی کا اعلان کیا، جس کے بعد فصلوں کو بچانے کے لیے ہوائی جہازوں سے کیڑے مار دوائیں چھڑکی گئیں۔ لیکن کسانوں کے مطابق یہ کارروائی دیر سے اور خاصے محدود پیمانے پر کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کیڑے مار یہ زہریلی دوائیں انسانی صحت اور ماحول کے لیے نقصان دہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!