کوئٹہ :بلوچستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنماﺅں نے کہاہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل کے علاوہ دیگر تمام کمپنیوں کی جانب سے تیل کی سپلائی بند کردی گئی ہے جس کے باعث صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں شہریوں کوپیٹرولیم مصنوعات کی قلت کاسامنا ہے ،صوبائی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی اقدام نہیں اٹھایاگیاہے ،دو دن انتظار کرینگے اگر کمپنیوں کی جانب سے سپلائی بحال نہ ہوئی توپمپس بند کرکے احتجاج کی راہ اختیار کرینگے ،حکومت اور ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایکشن لیں تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کے ممکنہ بحران سے بچا جاسکے ۔ان خیالات کااظہار بلوچستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حاجی ولی محمد بڑیچ ،صدر سید قیام الدین آغا نے دیگر عہدیداران کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اہم مسئلہ بن گیاہے اس سلسلے میں بلوچستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن حکومت بلوچستان ،اوگرا اور محکمہ پیٹرولیم کی توجہ اس جانب مبذول کراناچاہتی ہیں کہ صوبے میں تیل کی قلت پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے نہیں بلکہ بلوچستان کو تیل سپلائی کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے پیدا کی گئی ہے کوئٹہ شہر میں قائم پیٹرول پمپس کو مختلف کمپنیاں پی ایس او ،شیل ،ہیسکول ،بائیکو،اٹک اور عسکر آئل کمپنیاں تیل کی سپلائی کرتی ہے مگر بدقسمتی سے وفاقی حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد صرف پاکستان اسٹیٹ آئل کی جانب سے تیل کی سپلائی ممکن بنائی جارہی ہے جبکہ دیگر تمام کمپنیوں کی جانب سے تیل کی سپلائی بند ہیں ،لاوارث اور پسماندہ بلوچستان میں تیل کی مصنوعی قلت پیدا کرکے کمپنیاں اپنا منافع بڑھاناچاہتی ہے ،رمضان کے مہینے میں ہی تیل کمپنیوں نے تیل کی مصنوعات میں کمی کرناشروع کردی تھی اور عید کے فوراََ بعد یکم جون سے پی ایس او کے علاہ تمام کمپنیوں نے بلوچستان کو تیل کی سپلائی بند کردی تھی تاہم پی ایس او کی جانب سے تیل کی سپلائی جاری ہے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں 30فیصد پیٹرول پمپس کو پی ایس او جبکہ 70فیصد پیٹرول پمپس کو دیگر کمپنیاں تیل سپلائی کرتی ہیں اس وقت شہر میں صرف 30فیصد پیٹرول پمپس کھلے ہیں جن اتنی بڑی آبادی کو تیل کی سپلائی مشکل ہوتی جارہی ہے ،تیل سپلائی کرنے والی کمپنیاں تیل کی سپلائی کو اپنا نقصان قراردے رہی ہے اور اس وجہ سے سپلائی بند کردی گئی ہے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن دو دن کاانتظار کرینگے جس کے بعد نہ صرف کھلے پیٹرول پمپس کوبند کرینگے بلکہ احتجاج کی راہ اپنائیںگے ،انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے معاملے کی سنگینی کے باوجود صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی اقدام نہیں کیاگیاہے اس وقت بھی بلیلی کسٹم پر تیل کمپنیوں کی 12گاڑیاں لوڈ کھڑی ہیں لیکن ان کی جانب سے سپلائی نہیں کی جارہی ،انتظامیہ کو چاہےے کہ وہ فوری طورپر ان لوڈ گاڑیوں کو پیٹرول پمپس میں خالی کرائیں تاکہ معاملہ سنگینی سے بچ جائیں ۔
