بلوچستان کے 35 ترقیاتی منصوبے مسترد ، 21  ارب روپے کے منصوبے تاخیر کا شکار

بلوچستان کے 35 ترقیاتی منصوبے مسترد ، 21 ارب روپے کے منصوبے تاخیر کا شکار

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیرخزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ پلاننگ کمیشن کمیٹی کے پری بجٹ اجلاس میں وفاقی بجٹ میں بلوچستان کے 35 ترقیاتی منصوبوں کو مسترد کردیا گیا،وفاق کے رویہ کے باعث اکیس ارب روپے کے منصوبے تاخیر کا شکار ہیں، پلاننگ کمیشن کا رویہ ہمارے ساتھ نا مناسب ہے،اسی رویہ کے خلاف آج سالانہ منصوبہ بندی کمیٹی کے اجلاس سے واک آوٹ کیا، ہم صوبے کے عوام اور یہاں کی ترقی کی خاطر خاموش نہیں رہیں گے بلوچستان کا حق کسی بھی صورت لے کر رہیں گے ۔ پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے مفادات کا تحفظ نہ کیا گیا تو ہم بجٹ کی حمایت میں ووٹ نہ دینے کا سوچ سکتے ہیں ،بلوچستان کے مفادات کے لئے اگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطہ کرنا پڑا تو کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرا ت کے روز صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات عبدالرحمن بزدار کے ہمراہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے پی ٹی آئی کی حکومت کو وفاق میں ہمیشہ تعاون فراہم کیا تاکہ وہ بلوچستان کی ترقی کے لئے کام کرے لیکن آج صوبے کی ترقی پر عذر پیش کیا جارہا ہے، بلوچستان کے 162 ارب روپے کے منصوبے پی ایس ڈی پی سے نکال دیے گئے ہیں بہت سی قربانیاں دینے کے بعد اب جب بلوچستان کی ترقی کا مرحلہ شروع ہوا ہے تو صوبے کی ترقی پر کٹ لگایا جارہا ہے اگر ایسا کیا گیا تو صوبے کے حالات خراب ہونگے اور جن مقاصد کے لئے اتنی قربانیاں دی گئیں وہ پوری نہیں ہوسکیں گی ، بلوچستان پاکستان کی ترقی کا ضامن ہے یہاں قیام امن کے لئے سکیورٹی فورسز اور عوام نے پیش بہا قربانیاں دی ہیں امن قائم ہونے کے بعد اب بلوچستان کے زخموں کا مداوا ترقی سے کیا جاسکتا ہے لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وفاقی کا رویہ بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے غیر سنجیدہ ہے ، انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران بلوچستان کو وفاقی پی ایس ڈی میں میں سے 80 ارب روپے کی ایلوکیشن ہوئی اور 770 ارب کا تھرو فارورڈ ملا وفاقی پی ایس ڈی میں ٹرانسمیشن لائن ، سڑک اور ڈیمز سمیت کئی اہم منصوبے شامل ہیں جن کے لئے صرف 53فیصد رقم جاری کی گئی ژوب کچلاک روڈ کے لئے بجٹ میں 10 ارب مختص تھے جس میں سے صرف 3 ارب جاری ہوئے ، آواران ، ہوشاب ، لسبیلہ روڈ کے لئے 4 ارب میں سے اب تک کچھ بھی جاری نہیں ہوا ، سبی کوہلو رکھنی روڈ کو اس لئے نکال دیا گیا کہ اس پر ٹریفک کاﺅنٹ پورا نہیں جبکہ کاﺅنٹ تو لاہور میں بننے والے موٹر وے پر بھی پورا نہیں تھا پلاننگ کمیشن اور وفاقی بیوروکریسی کو متعدد بار یہ بات بتائی گئی ہے کہ بلوچستان آدھا پاکستان ہے یہاں سڑکیں بنیں گی تو ہی ان پر ٹریفک چلے گی لیکن انکا رویہ صوبے کے ساتھ معتصابہ ہے، انہوں نے کہا کہ وفاق کو ہم نے پیغام دیا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے اسے ترقی دیں گے تو ہی اسکا ثمر ملک بھر میں جائیگا لیکن ہماری ترقی کو ردی کی ٹوکریوں میں پھینک دیا گیا ہے اور کہا گیا کہ وقت گزر گیا ہم نے تاخیر کردی ہے جبکہ اس وقت بھی بجٹ میں 2 ہفتے باقی ہیں انہوں نے کہ کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے واضح کردیا ہے کہ اگر پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے مفادات کا تحفظ نہ کیا گیا تو ہم بجٹ کی حمایت میں ووٹ نہ دینے کا سوچ سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مفادات کے لئے اگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطہ کرنا پڑا تو کریں گے ہم صوبے کے معاملات پر کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے وزیراعلیٰ جام کمال خان بھی وزیراعظم سے ملاقات کرکے انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق ، پلاننگ کمیشن اور بیوروکریسی کی عینک میں بلوچستان نظر نہیں آتا لیکن ہم چپ نہیں بیٹھیں گے۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے وزیراعلیٰ جام کمال خان اور میں نے پلاننگ کمیشن کے پری بجٹ اجلاس میں شرکت کی بدقسمتی سے ہماری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا جس پر ہم نے اجلاس سے واک آﺅٹ کیا انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ہم نے اسکیم تاخیر سے بھیجی ہیں صوبے نے اپنا کام بروقت کیا اور اگر کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی حالات خراب ہیں تو اسکا اثر صرف بلوچستان کے منصوبوں پر نہیں پڑنا چاہیے ،اس موقع پر صوبائی وزیر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ وفاق بلوچستان اور اسکا جائز حق دے اگر ہماری حق تلفی ہوئی تو اتحادیوں کے ساتھ ملکر سخت احتجاج کریں گے جس سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ، وزیراعلیٰ بلوچستان کو اسلام آباد سے کسی صورت خالی ہاتھ نہ آنے دیا جائے۔ بلوچستان کے ساتھ گزشتہ 73 سال سے زیادتی ہورہی ہے سی پیک ، معدنیات ، گیس ، ساحل سمیت دیگر تمام اہم خزانے بلوچستان میں ہیں اگر بلوچستان کو ترقی نہیں دی جائیگی تو ملک کیسے ترقی کرسکتا ہے انہوں کہا کہ بلوچستان کو مضبوط کرنے سے وفاق مضبوط ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!