114 سال گزر گئے ، نوشکی تاحال ڈپٹی کمشنر آفس سے محروم

114 سال گزر گئے ، نوشکی تاحال ڈپٹی کمشنر آفس سے محروم

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

تحریر-محمد سعید بلوچ نوشکی

114 سال گرزنے کے باوجود بھی نوشکی میں ڈپٹی کمشنر آفس کا قیام عمل میں نہیں لایا جاسکا جو صوبائی حکومت اور منتخب عوامی نمائندوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے 14جولائی 1906کو نوشکی ڈسٹرکٹ چاغی کا ہیڈ کوارٹر بنا اور مسٹر برے چاغی کے پہلے پولیٹکل ایجنٹ مقرر ہو ئے اس وقت تک 88 پولیٹکل اجنٹس 15ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر اور 11ڈپٹی کمشنر بغیر آفس کے لوکل گورنمنٹ کے دفاتر میں فرائض منصبی سرانجام دے رہے ہیں اپریل 2004 کو چاغی کو دو اضلاع نوشکی اور چاغی میں تقسیم کردیا گیا چاغی کا نیا ہیڈ کوراٹر دالبندین کا بنا گیا چاغی کے عوامی نمائندوں نے دوسال کے مختصر عرصہ ضلعی سکٹریرپٹ بند دیا لیکن 114سال گزرنے کے باوجود نوشکی میں ڈپٹی کمشنر آفس کا قیام نہیں لایا جاسکا اسٹنٹ کمشنر کا آفس بھی گزشتہ 20سالوں سے لوکل گورنمنٹ کے عمارت میں بنایا گیا ہے 20سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی اسٹنٹ کمشنر کے کھنڈرات نما عمارت کی تعمیر مرمت اور آرائش پر نہ جانے کیوں توجہ نہیں دی جاری ہیں لوکل گورنمنٹ کے تمام عمارت پر ایڈمنسٹریشن نے قبصہ کررکھا جس کی وجہ لوکل گورنمنٹ کے ملازمین کو مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایف سی گیٹ کے سامنے اسٹنٹ کمشنر کھنڈرات نما عمارت کو منہدم کرکے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ضلعی سکیٹرریٹ کی عمارت تعمیر کرنے کے لیے فوری طور پر پلاننگ کرکے منصوبے پر کام شروع کیا جائے اس عمل سے جہاں آفیسروں کو اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے میں بہتر سہولیات میسر ہو نگی دوسری جانب عوام کہ بھی مشکلات سے نجات حاصل ہو گی اداروں کی کارکردگی بہتر اور عوامی مسائل بہتر انداز میں حل ہو نگے کھنڈرات نما عمارت کی جگہ نئی عمارت کی تعمیر سے شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو گا 114سال بعد نوشکی میں ضلعی سکریٹریٹ کا قیام تاریخی اھمیت کا حامل ہو گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!