تحریر. .ہارون مینگل
میر گل خان نصیر،عبداللہ جان جمالدینی،سیکٹری منیر احمد بادینی اور امیر الملک مینگل کی سر زمین نوشکی ادبی اور سیاسی اعتبار سے اپنا ثانی نہیں رکھتا پاکستان میں ادبی لحاظ سے نوشکی شہر کا ایک خاص مقام ہے نوشکی کو ادبی لحاظ سے مردم خیز سرزمین کہا جاتا ہے میر گل خان نصیر، سیکٹری منیر احمد بادینی اور عبداللہ جان جمالدینی جیسے اعلی پائیے کے اشخاص نے نوشکی شہر کو ایک خاص مقام دلانے میں اور پاکستان کے دوسروں صوبوں کے عوام کو نوشکی کی طرف متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے نوشکی مردم خیز علاقہ اسلئیے بھی کہلاتا ہے کہ یہاں کہ نوجوانوں کی قابلیت،ہنر،اور پاکستان کے سب سے بڑے تعلیمی مقابلے کی امتحان سی ایس ایس یا صوبائی مقابلے کی امتحان پی سی ایس یا پبلک سروس کمیشن ہو ان سب تعلیمی مقابلوں میں نوشکی کے قابل،تخلیق کار،ٹیلینٹد اور ہنر مند نوجوان اپنی قابلیت کا لوہا منوا چکے ہے کیھل کے میدان ہو شاعری کا میدان نوشکی پاکستان کے کسی بھی صوبے سے پیچھے نہیں رہا نوشکی میں کیھل کے اعتبار سے پاکستان میں قومی سطح کے فٹبال کے نہ صرف بلکہ کرکٹ کے بہترین کھلاڑی موجود ہے خصوصی طور پر فٹبال کے کھلاڑیوں کا ذکر قومی سطح پر کیا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے سپورٹ،حوصلہ افزائی اور حکومتی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے نوشکی کے ادبی شخصیات ہو،تعلیمی اعتبار سے قابل نوجوان ہو یا فٹبال کے کھلاڑی ہو سب کی یہ ہنر اور قابلیت ضائع ہوتا جارہا ہے بدقسمت نوشکی میں اگر کسی چیز کی کمی رہی ہے تو وہ ہے بہترین لیڈر شپ کی کمی نوشکی کے عوام کو قبائلیت پسندی اور شخصیت پسندی میں ایسے تقسیم کیا گیا ہے کہ جنکو اپنی زات اور مفادات کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آتا ہمارا نوشکی ایسا نہیں تھا آج سے 15،18 سال پہلے نوشکی ایک بہت ہی پرامن،خوشگوار اور اپنے لوگوں کی وجہ سے ایک آئیڈیل اور خوبصورت شہر کہلاتا تھا بھائی چارہ،ہمدردی ایک دوسرے کے دکھ درد بھانٹنا، ایک دوسری کی خوشیوں میں شریک ہونا،مشکل اور مصیبت میں ایک دوسرے کی مدد کرنا ،لوگوں میں ایک دوسرے کے لئیے محبت اور احساس ہمدردی کا ایک جذبہ ہوتا تھا لیکن پھر آئستہ آئستہ وقت بدلتا گیا سیاست میں جدت اور مفادات آگئے ایک دوسرے کے ووٹ بینک کو متاثر کرنے کے لئیے نوشکی کے لوگوں کو قبائلیت میں تقیسم کیا گیا اپنی تقریروں سے ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کردی ایک دوسرے کے کرداروں پر کیچڑ اچھالا گیا نوشکی کے عوام کو تقسیم کیا گیا درمیان میں کچھ لوگ ایسے بھی آگئے جنہوں نے اپنی مفادات اور اپنی مطلب کے لئیے نوشکی کے سادہ اور معصوم نوجوانوں کو پہلے ریاست کے خلاف ورغلایا انہیں اکسایا گیا جب مطلب پورا ہوا تو خود جاکر مراعات اور پیسے بٹورنا شروع کردیا اور لوگوں کو اپنی پشت پر نامعلوم طاقت سے ڈرایا گیا اور دھمکایا گیا الیکشن کے ٹائم ایک امیدوار آکر چوک پہ کھڑا ہوکر لوگوں کو ترقی،روزگار اور نوکریوں کا سبز باغ دکھا کر بیوقوف بناتا گیا جب ایم پی اے بن گیا تو من پسند لوگوں کو ٹیکہ دیتا گیا اور عوام کے منہ میں ٹوٹا پوٹا روڈ ، نالیوں کا اور سڑکوں پر شمسی لائٹ کا لالی پاپ دیکر عوام کو خاموش کیا گیا اور یہ کام بھی اپنی مدت مکمل کرنے کے آخری مراحل میں تاکہ نوشکی کے سادہ عوام کو نظر آئے کے ہم نے اپنے وقت میں نوشکی شہر کو پیرس بنادیا ہے 2018 کے الیکشن جب آگئے تو ایک نئے صاحب ایک مشہور سیاسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے میدان میں آگئے اور گھر گھر جاکر لوگوں سے ترقی اور نوکریوں کے نام پر لوگوں سے ووٹ کی بیھک مانگتے گئے نوشکی کی سادہ عوام جو سابقہ پانچ سالہ دور سے تنگ آگئے تھے ان میں امید کی ایک نئی کرن جاگ گئی کہ اب نوشکی میں نوکریوں کی بارش ہوگی اب کوئی بیروزگار نہیں ہوگا ہر طرف سڑکوں کا جال بچھایا جائیگا نوشکی بجلی کی لوڈشیڈنگ کا نام بھی نہیں ہوگا لیکن موصوف نے جب اس مشہور سیاسی پارٹی اور اس کے قائد جو بلوچستان میں ہر کسی کے لئیے قابل احترام ہے اسکی بدولت الیکشن جیت گئے تو عوام کی خوشی دیدنی اور دیکھنے کی قابل تھی لیکن عوام کو کیا پتہ تھا کہ وہی پرانی طرز الیکشن جیت کر خود کو غائب کرنا اپنے اردگرد کے کچھ چمچہ لوگوں کو ٹیکے دینا مشکل کی اس گھڑی میں عوام کا ساتھ دینے کی بجائے موصوف خود ہی لاپتہ ہوگئے ہے سابقہ نمائندے نے کم ازکم فوٹو سیشن میں خود کی کارکردگی کو زندہ رکھا تھا سابقہ ایک اعتبار سے موجودہ سے کئی گنا بہتر اسلئیے تھا کہ کم ازکم نوشکی کے مسائل پر اخباری بیان تو دیتا تھا لیکن موجودہ بیچارہ کارکردگی دور کی بات اخباروں میں بھی اسکی سیاست زندہ نظر نہیں آرہا اب تو عوام موصوف کی گمشدگی کے بارے میں پریشان ہوگئے ہے 13 فروری 2020 کو جب ایک قابل اور باہمت نوجوان سمیع مینگل کو شہید کیا گیا تو پورا نوشکی یکجا ہوا لوگوں میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑگئی عوام اپنی مدد آپ کے تحت انتظامیہ پہ دباو ڈال دیا ایس ایچ او کی برطرفی کا سمیع مینگل کے قاتلوں اور منشیات فروشوں کو گرفتار کرنے کا تو ان کنووں کے مینڈکی اور موسمی سیاستدانوں کو اپنی سیاست چمکانے کا موقع مل گیا تمام سیاسی پارٹیوں نے سمیع مینگل کی شہادت کو کیش کرنے کا بھر پور فائدہ اٹھایا کچھ دن تک مگر مچھ کے ہانسوں بہاتے گئے کچھ جیسے ہی وقت گزرتا گیا سیاسی پارٹیوں کا مطلب پورا ہوگیا سمیع مینگل کی شہادت کو بھلایا گیا سمیع مینگل نے انہی سیاستدانوں کے بچوں کو منشیات جیسے لعنت سے بچانے کے لئیے اپنی جان کی قربانی دی لیکن ان احسان فراموش سیاستدانوں نے سمیع مینگل کا یہ احسان بھول گئے اور دوبارہ اپنے عیاشیوں اور عوام کو لوٹنے میں مصروف رہے یہ ہمارے نوشکی کے سیاسی پارٹیوں کی اصلیت ہے جب تک نوشکی سے یہ موروثی سیاست،وراثتی سیاست ،قبائلیت پسندی اور شخصیت پسندی کی سیاست ختم نہیں ہوگا اس وقت تک نوشکی میں تبدیلی صرف اور صرف ایک خام خیالی ہی ہوگا میری نوشکی کے پڑھے لکھے اور باشعور نوجوانوں سے گزارش ہے کہ اپنی قابلیت اور اپنے علم کا استعمال کرتے ہوئے نوشکی کے لوگوں میں شعور اجاگر کرے انہیں صحیح اور غلط میں فرق بتا دیں. …….


