سٹیل ملز ملازمین سے متعلق فیصلے پر اسد عمر کے موقف کا انتظار ہے، سعید غنی

سٹیل ملز ملازمین سے متعلق فیصلے پر اسد عمر کے موقف کا انتظار ہے، سعید غنی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کراچی : وزیر تعلیم سندھ و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ اسٹیل ملز ملازمین سے متعلق فیصلے پر کابینہ اجلاس میں اسد عمر کے موقف کا انتظار ہے۔ پیپلزپارٹی کو بدنام کرنے کےلئے ایک خاتون کو استعمال کیا جارہا ہے، سنتھیا رچی کتنی سچی ہیں یہ وقت بتائے گا اسٹیل ملز کی گیس کو بند کرنے کا مسلم لیگ(ن) کا فیصلہ انتہائی نامناسب تھا۔ اتوار کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب اسٹیل ملز بند کی گئی اس وقت سوئی سدرن گیس کمپنی(ایس ایس جی سی) کے واجبات 35 ارب روپے کے قریب تھے جس میں 17 ارب روپے گیس کے واجبات تھے اور 18 ارب روہے لیٹ سرچارج تھا کیونکہ جو ادائیگیاں ایس ایس جی سی کو نہیں کی گئی تھی ان پر لیٹ سرچارج لگایا گیا تھا۔سعید غنی نے کہا تھا کہ اس وقت ہم نے پریس کانفرنس کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ایس ایس جی سی کا مقصد یہ ہے کہ اسے واجبات مل جائیں تو وہ ادائیگی اسی صورت میں ممکن ہے کہ اسٹیل ملز چلے، اگر اسٹیل ملز نہیں چلے گی تو گیس کا بل ادا نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ 5 برس بعد گیس کا 35 ارب روپے کا بل مئی 2020 میں 66 ارب 66 کروڑ روپے ہے، اس وقت تو یہ کہہ کر گیس بند کردی گئی تھی کہ ایس ایس جی سی چل نہیں پائے گا لیکن آج 5 برس بعد ایس ایس جی سی کا دعویٰ دگنا ہوگیا ہے لیکن ادائیگی نہیں ہوئی ۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اس وقت بھی ہم نے کہا تھا کہ اسٹیل ملز کی گیس کو بند کرنے کا مسلم لیگ(ن) کا فیصلہ انتہائی نامناسب تھا اور اس ادارے کی تباہی کی جانب پہلا قدم تھا جس وقت اسٹیل ملز بند ہوئی میرا خیال ہے کہ اس کی پیدوارا اپنی 65 فیصد صلاحیت پر مبنی تھی۔سعید غنی کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت کے اعداد و شمار اٹھا کر دیکھیں تو جون 2015 سے پہلے اسٹیل ملز کی پیداوار میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوا اور 65 فیصد پر آنے کے بعد وہ خسارے سے نکلنے کے قریب تھی اگر اسٹیل ملز اسی رفتار سے چلتی رہتی تو شاید اسی برس یا چند مہینوں میں وہ خسارے سے نکل آتی۔ انہوں نے کہا کہ خسارے سے نکلنے کے بعد اسٹیل ملز اپنے ملازمین کی تنخواہیں خود دیتی، ایس ایس جی سی کے واجبات خود ادا کرنے کے قابل ہوجاتی لیکن عجیب منطق پیش کی گئی کہ ایس ایس جی سی کو واجبات چاہیئیں اس لیے گیس بند کردیتے ہیں جو اب تک ادا نہیں کیے گئے بلکہ ان میں اضافہ ہوا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت کے بقول گزشتہ 5 سال میں اسٹیل ملز کے ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں 72 ارب روپے ادا کیے گئے، اگر 2015 میں 17 ارب روپے کا بل دے دیا جاتا تو نا یہ 72 ارب روپے خرچ ہوتے، نا گیس کا بل بڑھتا ، اسٹیل ملز کی یہ حالت نہ ہوتی اور وہ بحران سے نکل آتی۔سعید غنی نے کہا کہ آج سپریم کورٹ کے کاندھے کو استعمال کیا جارہا ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے مشاہدے کو جواز بنا کر پاکستان اسٹیل ملز کے ساڑھے 9 ہزار کے قریب ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ 2006 میں جب نجکاری کا فیصلہ ہوا تھا تو اس میں سپریم کورٹ نے اسٹیل ملز کی نجکاری کو روک دیا تھا لیکن اس فیصلے کی اہم چیز یہ تھی کہ پاکستان اسٹیل ملز کے متعلق حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی اس کی منظوری سی سی آئی سے لی جائے گی۔انہوں نے سوال کیا کہ حکومت نے جو بھی منصوبہ بنایا ہے کیا سی سی آئی سے اس کی منظوری لی ہے؟سعید غنی نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے اسٹیل ملز میں سیاسی بھرتیاں کیں جس کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہوئی، میں دعوے سے کہہ رہا ہوں کہ 2008 سے 2013 تک جب پیپلزپارٹی وفاقی حکومت میں رہی اس دوران ایک بھی شخص کو اسٹیل ملز میں بھرتی نہیں کیا گیا۔ صوبائی وزیر محنت نے کہا کہ ہم نے اس ادارے میں موجود کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولرائز کیا اور پاکستان کے مطابق یہ ملازم کا حق ہے کہ اسے ایک عرصے کے بعد مستقل کیاجائے، ہم نے پیپلزپارٹی کی حکومت سے پہلے تقرر ہونے والے ملازمین کو مستقل کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے یہ زیادہ آسان تھا کہ ان تمام لوگوں کو نکالتے اور اپنی مرضی کے لوگوں کو بھرتی کرتے ہم نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملز سے متعلق جب بھی کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس میں توجہ کا مرکز اس کی زمین ہوتی ہے جس کی مالیت اربوں میں ہے، اگر صرف اسٹیل ملز کے پلانٹ کی مالیت نکالی جائے تو وہ بھی لگ بھگ 100 ارب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملز کی 19 ہزار ایکڑ کی مالک حکومت سندھ ہے اور اگر وفاقی حکومت نے سی سی آئی کی منظوری اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی فیصلہ کیا تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔سعید غنی نے کہا کہ ہم اسٹیل ملز سے ملازمین کو نکالنے کی کوشش کی مذمت کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!