کوئٹہ:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ اساتذہ قوم کے معمار اور محسن ہیں حکومت نجی اداروں کے اساتذہ کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک بند کرے ۔کورونا وباءکے بعددنیا کے بہت سے ملکوں میں تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں ۔ہماری حکومت نے باز ار ،پبلک ٹرانسپورٹ ،بڑے بڑے پلازے اورریسٹوران کھول دیئے ہیں مگر تعلیمی ادارے جن سے قوم کا مستقبل وابستہ ہے ان کو جبراً بند رکھا جارہا ہے ۔تعلیمی اداروں کی بندش سے 15 لاکھ اساتذہ بے روز گار ہوچکے ہیںاور انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہیں۔کورونا فنڈ کے 12سو ارب روپے سے ان کی مدد کیوں نہیں کی جاسکتی۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو حکومت اپنا دشمن کیوں سمجھ رہی ہے، یہ حکومت کے معاون ہیں۔آرٹیکل 25.A کے تحت ملک کے ہر شہری کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ریاست کا کام ہے، اگر پرائیویٹ تعلیمی ادارے یہ کام کر رہے ہیں تو وہ دراصل حکومت کی ذمہ داری میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ ان اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر سپورٹ کرے تاکہ علم کی شمع روشن رہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ،خیبرپختونخواہ،سندھ ،پنجاب ،گلگت بلتستان اورآزادکشمیر کے پرائیویٹ اسکولزایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران گفتگومیں کیا انہوں نے ملک بھر میں 27فروری سے تعلیمی ادارے بند ہیں چار ماہ بعد بھی حکومت کے پاس تعلیمی نظام کو بحال کرنے کا کوئی لائحہ عمل نہیں ۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے اڑھائی کروڑ اور مدارس کے 31لاکھ طلبا کا مستقبل تاریک ہورہا ہے ۔پرائیویٹ تعلیمی ادارے حکومت کا بوجھ بانٹ رہے ہیں ،حکومت تو تمام تر دعوﺅں کے باوجود سکولوں سے باہر دوکروڑ بچوں کو سکولوں میں نہیں لاسکی ۔سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ حکومت بند کئے گئے تعلیمی اداروں کا بوجھ خود اٹھائے ،اساتذہ کو تنخواہیں ،بلڈنگز کا کرایہ اور یوٹیلیٹی بلز حکومت ادا کرے کیونکہ چار ماہ سے بچوں کی فیسیں تو نہیں آرہیں،حکومت ان اداروں کو چلانے کیلئے بلاسود قرضے مہیا کرے ۔انہوں نے کہاکہ 15لاکھ اساتذہ کے گھروں کے چولہے بجھ گئے ہیں اور یہ اساتذہ عید پر بھی اپنے بچوں کو نئے کپڑے اور جوتے تو کیا اچھا کھانا نہیں کھلا سکے ۔ ملک بھر کے نجی تعلیمی اداروں کے ذمہ داران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ SOP اور حفاظتی تدابیر کے ساتھ تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کریں۔پچھلے چار مہینوں سے سکول بند ہیں اور کرونا اور لاک ڈاﺅن کی وجہ سے والدین فیس دینے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس لیے حکومت پاکستان نجی تعلیمی اداروں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کرے اور نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے منفی پروپیگنڈہ بند کیا جائے۔ یہ تعلیمی ادارے علم کا نور پھیلا رہے ہیں۔ اس نور کو بجھانے کی سازشیں نہ کریں۔ تعلیمی ادارے بند کرنا آئین کے آرٹیکل 18 کی خلاف ورزی ہے۔ 5 کروڑطلبہ کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے۔ 50فیصد تعلیمی ادارے مکمل بند اور 10 لاکھ لو گ بے روزگار ہو جائیں گے۔سکولز کی ٹائمنگ 7 تا 10 اور 2 شفٹ میں تعلیمی ادارے چلائے جاسکتے ہیں۔اس کے تحت ادارے کھولے جائیں۔بورڈ فیس کی مد میں 45 لاکھ طلبہ سے وصول شدہ ،25 ارب روپے واپس کریں۔پف سکولز کی چار ماہ سے رُکی ہوئی Payments اور ساری کٹوتیاں فی الفور جاری کی جائیں اور پف بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔






