کوئٹہ:عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر وپارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے پاک افغان بارڈر کی بندش سے متعلق بلوچستان اسمبلی میں تحریک التواءجمع کرادی ۔گزشتہ روز اے این پی کے صوباءصدر وپارلیمانی لیڈر کی جانب سے پاک افغان سرحد چمن بارڈر کی بندش سے متعلق صوبائی اسمبلی میں تحریک التواءجمع کرادی جس میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ پاک افغان سرحد پر تجارتی اور کاروباری سلسلوں کی تاریخ بہت پرانی ہے ساتھ ہی دونوں طرف سے آباد قبائل کے خونی رشتے بھی ہیں،کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاﺅن اور دیگر کاروباری وتجارتی بندشوں کے ساتھ ساتھ پاک افغان بارڈر بھی دوطرفہ تجارت کیلئے بند کی گئی ہے جس کی وجہ سے چمن میں سرحد کے دونوں اطراف آباد قبائل کومشکلات کاسامنا ہے بلکہ تجارتی اورمعاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں ،بارڈرکی مسلسل بندش سے نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کومعاشی طورپر بڑے المیہ سے دوچار کرسکتی ہے بلکہ اس کے منفی اثرات دونوں طرف کے عوام کو امن وامان کے گھمبیر مشکلات سے دوچار کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے اور عوام کے غیض وغضب میں اضافے اور ایک بڑے عوامی احتجاج کا باعث بن سکتاہے ،بلوچستان میں روزگار اور تجارت کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہے اور سرحدی تجارت سے ہزاروں گھرانوں کا روزگار وابستہ ہے سرحد کی مسلسل بندش سے لوگوں میں شدید تشویش اور غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے لہٰذاءایواان کی کارروائی روک کر اس فوری عوامی نوعیت کے حامل مسئلے کو زیر بحث لایاجائے ۔
