دالبندین محمد بخش بلوچ سے ) قدرتی حادثات میں جانی نقصان پر ہمیں صبر کرنا چاہیے کیونکہ ایسے واقعات جان بوجھ کے نہیں حادثاتی طور پر ہوتے ہیں آپس کی رنجشیں ختم ہونے سے علاقے میں امن کی فضا برقرار ہوگی ان خیالات کا اظہار ممتاز عالم دین و جمعیت علماء اسلام ضلع چاغی کے نائب امیر حافظ حسین آحمد نے گزشتہ ہفتے دالبندین میں حادثاتی طورپر روڈ ایکسیڈنٹ میں جان بحق نوجوان کے مسلے کے خوش اسلوبی سے حل ہونے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی اس معاملے کو حل کرنے کیلئے حافظ حسین آحمد سردار حفیظ اللہ میرانزئی ملک علی شیر میرانزئی سردار عبدالغیاث نوتیزی ملک محمد اعظم میرانزئی حاجی وزیر جان نوتیزی میجر نصیر میرانزئی حافظ عطاء اللہ کشانی مولوی آحمد حاجی عبدالطیف میرانزئی و دیگر نے بلوچ رسم و رواج کے مطابق میڑھ لے کر ساسولی ہاوس میں ساسولی قبائل کے عمائدین سے ملنے گئے جس پر ساسولی قبائل کے معتبرین حاجی محمد وارث ساسولی حاجی محمد صدیق ساسولی محمد اکبر ساسولی و دیگر نے میڑھ کو قبول کرکے شکر اللہ میرانزئی کو اللہ کی رضا کیلئے معاف کردیا اس مسلے کے حل کیلئے حافظ حسین آحمد اور حاجی محمد وارث ساسولی نے ثالثی میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے دونوں قبائل کو آپس میں بغل گیر کیا اور کہا کہ قدرت کی طرف سے اس طرح کے اچانک واقعات ہوتے ہیں اور ان میں جانیں ضائع ہوتے ہیں جن پر ہمیں صبر کا دامن تھامے رکھنا ہیں تاکہ کوئی دوسرا واقع پیش نہ آسکے انہوں نے کہا کہ قبائلی جھگڑے ہمارے آپس کے مسائل کا حل نہیں ہیں بلکہ معمولی سی معمولی رنجشیں بہت بڑی خون ریزی کا سبب بن سکتے ہیں جس پر ہمیں چاہیے کہ ہم بروقت اس طرح کے ناخوشگوار واقعے کو قابو کرنے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کریں تاکہ علاقے میں امن کی فضا برقرار رہ سکیں آخر میں میرانزئی قبائل کے سربراہ سردار حاجی حفیظ اللہ میرانزئی نے میرانزئی ہاوس میں ظہرانہ دیا اور دعائے خیر بھی ہوئی
