ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا وقت آگیا ،وزیراعظم

ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا وقت آگیا ،وزیراعظم

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

لا ہور :وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگلے ماہ جولائی میں کورونا وائرس مزید بڑھے گا، اب ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے سختی کرنے کا وقت آگیا ہے ، آئندہ سے عوامی مقامات پر کسی کو ماسک کے بغیر نہیں جانے دینگے، پنجاب میں مکمل لاک ڈاون نہیں کیا جائے گا،جہاں سے کورونا کے زیادہ کیسز سامنے آئیں گے پھر وہاں پر سخت لاک ڈاﺅن کر دینگے،،اگر عوام نے لاک ڈاﺅن میں نرمی پر احتیاط نہیں کی تو ملک کو نقصان اٹھانا پڑے گا اس لیے عوام کو ذمہ داری ادا کرنی پڑے گی،لاہور میں بھی صرف ریڈ زون علاقوں کو لاک ڈاون کیا جائے گا۔وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ کورونا وائرس کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے صوبے میں مکمل لاک ڈاﺅن کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم مکمل لاک ڈاﺅن کے متحمل نہیںسکتے، پاکستان سنگارپور، نیوزی لینڈ جیسا ہوتا تو لاک ڈاﺅن کرنا آسان ہوتا، پاکستان جیسے ملک کے لیے لاک ڈاﺅن نہیں سمارٹ لاک ڈاﺅن کی ضرورت ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارا ملک سنگاپور جیسا چھوٹا ملک ہوتا تو لا ک ڈاﺅن لگا دیتا ، اگر عوام نے لاک ڈاو¿ن میں نرمی پر احتیاط نہیں کی تو ملک کو نقصان اٹھانا پڑے گا اس لیے عوام کو ذمہ داری ادا کرنی پڑے گی،دیگر صوبوں کے بھی دورے کروں گا، خود تمام صورتحال مانیٹر کروں گا، کورونا کا پھیلاو¿ ماسک کے استمال سے 50 فیصد کم ہوسکتا ہے ، گھر سے باہر نکلنے والے سب ماسک پہنیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایک تصور تھا کہ ہم لاہور کو پھر لاک ڈاو¿ن کریں تو میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ لاک ڈاو¿ن کا مطلب ہے وائرس کا پھیلاو¿ روکنے کے لیے پوری معیشت کو بند کردینا ہے میرے شروع سے تاثرات ہیں کہ اگر ہمارا ملک سنگاپور جیسا چھوٹا ملک ہوتا جس کی50 لاکھ کی آبادی ہے، تائیوان یا نیوزی لینڈ کی طرح ہوتا جہاں 30 لاکھ آبادی ہے تواس ملک کو لاک ڈاو¿ن کرنا بڑا آسان کام ہے، یہ امیر ملک ہیں جن کی سالانہ آمدنی 30، 50 ہزار ڈالر ہے، ان کو بند کردینے سے کوئی زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں پہلے دن سے کہہ رہا تھا کہ ہمارے جیسے ملک جہاں 22 کروڑ عوام ہیں جس میں سے 25 فیصد غربت کی لکیر سے نیچے ہیںبھارت، بنگلہ دیش اور ہمارے مختلف حالات ہیں، جب ہم لاک ڈاو¿ن کرتے ہیں اور معاشی سرگرمیاں معطل ہوتی ہیں تو دہاڑی دار طبقے پر سارا بوجھ پڑتا ہے اور بے روزگار ہوتے ہیں ایسے ممالک کے اندر صرف ایک ہی چیز ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاو¿ن، سوچھ سمجھ کر لاک ڈاو¿ن کریں تاکہ معاشی پہیہ بھی چلے اور غریب پر بھی بوجھ نہ پڑے اور ساتھ ساتھ کورونا کا پھیلاو¿ بھی روکتے جائیں۔انہو ںنے کہا کہ آج نیویارک کا گورنر جو دنیا کا سب سے امیر شہر ہے جس کا صحت کا بجٹ ہمارے ملک کے پورے بجٹ سے دو تین گنا زیادہ ہے اور کہہ رہا ہے کہ نیویارک کا لاک ڈاو¿ن کا دیوالیہ نکل گیا ہے تو ہم جیسے ملکوں کا کیا ہوا ہوگا اور جب ہم بجٹ بنانے آئے ہیں تو کتنا مشکل ہوا ہوگا اس میں کوئی شک نہیں ہمارے ہاں تین مہینوں میں جتنی اموات ہوئی ہیں نیویارک میں ایک دن میں اس کے قریب ہوئی ہیں، اس لیے وہاں زیادہ مشکل حالت تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے ہسپتالوں میں زیادہ دباو¿ تھا۔لاک ڈاو¿ن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جتنی دیر آپ کسی ملک کو بند کردیتے ہیں اتنی اس کی معیشت خراب ہوتی ہے ہم نے پاکستان میں 13 مارچ کو لاک ڈاو¿ن کیا تھا اور اتنا ہی لاک ڈاو¿ن ہے جتنا نیویارک کا ہے جب نیویارک کا دیوالیہ نکل سکتا ہے تو سوچیں کہ ہمارے جیسے ملک میں کتنی مشکلات آئیں، جو آمدنی اوپر جارہی تھی وہ نیچے چلی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ میں جب بھی آیا ہوں یہی کہا ہے کہ احتیاط نہیں کی تو آگے مشکل حالات آئیں گے، احتیاط کرنا عوام کی ذمہ داری ہے اور اگر احتیاط نہیں کریں گے تو اس ملک کو آخر میں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر زیادہ لوگ بیمار ہوتے ہیں تو ہمارے ملک میں کبھی بھی ہسپتال کی ایسی سہولت موجود نہیں تھی اسی لیے میں بار بار کہتا رہا کہ ایس او پیز پر عمل کریں جب ہم آپ کو کاروبار کھولنے کا موقع دے رہے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ احتیاط کریں تاکہ ہسپتالوں پر کم دباو¿ ہو اور ہم ہسپتالوں میں زیادہ لوگوں کو علاج کرپائیں گے اگر احتیاط نہیں کریں گے اور وائرس پھیلنا شروع ہوا تو سارا دباو¿ ہسپتالوں پر ہوگا اور ابھی یہ دباﺅ پڑچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد کے ساتھ بیٹھ کر بات کی اور پنجاب کے حوالے بریفنگ لی اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اب ہمیں سختی کرنی پڑے گی لیکن لاک ڈاو¿ن نہیں کریں گے ہم مخصوص لاک ڈاو¿ن کریں گے، پہلے ہاٹ اسپاٹ کو ٹریس کریں گے اور ان مقامات کو بند کریں گے اور شاید ہمیں زیادہ رضاکاروں کی ضرورت پڑے گی کیونہ ہمیں اس کا پھیلاو¿ روکنا ہے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایس او پیز پر انتظامیہ اور رضاکار مل کر زور لگائیں گے۔ایس او پی پیز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلی چیز ماسک ہے، اب عوامی مقامات میں کسی کو ماسک کے بغیر جانے نہیں دیں گے کیونکہ یہ ضروری ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عوام نے ایس او پیز پر عمل نہیں کیا، لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بیماری ہے ہی نہیں، ان کے کسی جاننے والے کو نہیں ہوا، یہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ کورونا سے کچھ نہیں ہوگا ہم رضاکاروں کی ذریعے ایس او پیزپر عمل درآمد پر نظر رکھیں گے، اتنظامیہ اور رضا کار کورونا سے متعلق ایس او پیز پر عمل درآمد یقنی بنائیں گے، عوامی مقامات پر ماسک کا استعمال لازمی بنایا جائے گا، کاروبار ، مارکیٹ ، فیکٹری جہاں ایس او پیز پر عمل نہیں ہوگا بند کرنا پڑے گا۔انہو ںنے مزید کہا کہ ٹائیگر فورس کا اس وقت اہم کردار ہے اور آگے مزید بڑا کردار ہوگا، ایپ کے ذریعے معلومات آئیں گی اور اس کے مطابق اقدامات ہوں گے، جتنا آپ احتیاط کریں گے حالات قابو میں رہیں گے، افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ جیسے لاک ڈاو¿ن ہٹایا لوگوں نے سمجھا کے بیماری ختم ہوگئی۔ دیگر صوبوں کے بھی دورے کروں گا، خود تمام صورتحال مانیٹر کروں گا، کورونا کا پھیلاو¿ ماسک کے استعمالسے 50 فیصد کم ہوسکتا ہے ، گھر سے باہر نکلنے والے سب ماسک پہنیں ، یاد رکھیں اس وائرس سے بزرگ اور بیمار افراد کو زیادہ خطرہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!