تربت ،تبلیغی اجتماع کی اراضی کامسئلہ مذہبی نہیں ،سیاسی ہے ،نواب شمبئے زئی

تربت ،تبلیغی اجتماع کی اراضی کامسئلہ مذہبی نہیں ،سیاسی ہے ،نواب شمبئے زئی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

تربت(نمائندہ کوہ یار/بلال بہار)پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صوبائی نائب صدراورکاروباری شخصیت نواب شمبئے زئی نے تبلیغی اجتماع گاہ اراضی کے تنازعے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ تبلیغی اجتماع کی اراضی کامسئلہ مذہبی نہیں ،سیاسی ہے سوشل میڈیا میں اس کو غلط رنگ دیا جارہاہے ،اجتماع گاہ کی اراضیات کو ہڑپنے کے پیچھے ایک سیاسی قوت ہے،انکی ایماءپر سوشل میڈیا میں میرے خلاف باقاعدہ مہم شروع کی گئی ہے ،پروپیگنڈہ کیا جارہاہے،دھمکیاں دی جارہی ہیں ،اخلاق سے عاری الفاظ استعمال کیئے جارہے ہیں اور میری سیاسی و سماجی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے،اگر مجھے یا میرے خاندان کے کسی فرد کو کوئی نقصان پہنچا تو اسکے ذمہ حبیب اللہ نامی شخص ہوگاانھوں نے کہا کہ کوہ مراد کی مغربی اراضیات پر گزشتہ 9 سال سے کمشنر مکران کے ساتھ قانونی جنگ لڑی ہے ،سپریم کورٹ کی ڈگری میرے پاس موجود ہے ،اس میں ہم 12 حصہ دار ہیں ،اجتماع گاہ کے نام پر علماءکرام کو استعمال کیا جارہاہے ،تبلیغی اجتماع کیلئے کلاتک کے مقام پر 5 سو ایکٹ زمین سرکار کی طرف سے مختص کی گئی ہے کوہ مراد اجتماع گاہ کی اراضیات پر قبضہ جمانے کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں اس کیلئے حبیب اللہ نامی شخص کو مہرے کے طور پر سیاسی لوگ استعمال کررہے ہیں مفتی اورعلماءکرام کا احترام کرتا ہوں وہ جہاں چاہیں انکے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار ہوں اس مسلئے کے تمام اصل حقائق انکے سامنے رکھ دوں گا ایک طاقت ور سیاسی جماعت ہماری اراضیات کو ہڑپنے کیلئے اس سے پہلے کمشزمکران کو فریق کے طورپر استعمال کرچکے ہیں ہماری تعمیر شدہ چاردیواریاں مسمار کرادی گئیں اور موقف اختیار کیا گیا کہ زمین سرکاری ہے اس جگہ پر بس اڈہ کیلئے مختص کی گئی ہے لیکن ہم نے بحیثیت شریف شہری قانونی طریقہ کار اختیار کرکے دستور حق کے تحت عدالتوں سے رجوع کیا جہاں سے ہماری داد رسی کی گئی قاضی کورٹ سے لیکر سپریم کورٹ کی ڈگریاں ہمارے پاس موجودہیں وہاں سے ناکامی کے بعد اب یہی بااثر سیاسی لوگ تبلیغی اجتماع کے نام پر علماءکرام کو گمراہ کرکے اس پر قبضہ جمانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں انھوں نے کہا کہ کوہ مراد کے مغربی اراضیات پر قبضہ جمانے کیلئے سیلاب متاثرین کو اس مقصد کیلئے بیٹھایا گیا کہ اس پر قبضہ کیا جاسکے اسکے پیچھے بھی سیاسی مقاصد تھے حالانکہ سیلاب متاثرین کو بسانے کیلئے سرکار کے پاس اور زمینیں موجود تھیں ہماری زمینوں پر انکو بسانے کے پیچھے مقاصد کچھ اور تھے ہم نے مزکورہ اراضیات پر سیلاب متاثرین کو بٹھانے کیلئے ہمارا کمشنر مکران کے ساتھ ایمرجنسی میں ایک تحریری معاہدہ کیا تھا جسکے تما م شواہد ہمارے پاس موجود ہیں انھوں نے کہا کہ حبیب اللہ نامی شخص کو سیاسی مہرہ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے تبلیغی اجتماع کی آڑ میں علماءکرام کو سڑھی بناکر استعمال کیا جارہا ہے، میرا علماءکرام سے گزارش ہے کہ وہ اصل معاملے کو سمجھیں اور اصل حقائق کو جاننے کی کوشش کریں بحیثیت مسلمان میں مفتی وعلماءکرام کا عزت کرتا ہوں اسلے پر وہ جہاں کہیں انکے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار ہوں لہذا سوشل میڈیا میں میری تزلیل کرنے کے بجائے اس معاملے پر بیٹھ کر میرے موقف کو سنیں انھوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ کئی سالوں سے اس مسلئے کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قانونی جنگ لڑتا آرہا ہوں کسی کو نہ دھمکی دی ہے اور نہ ہی کسی کی معاشرتی تزلیل کی ہے جو میری شریف النفس شہری ہونے کا ثبوت ہے جس پر میں ہمیشہ کاربند رہوں گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!