کو ئٹہ:شہید نواب اکبر خان بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچ طلبا و طالبات کی گرفتاری بلوچستان کے روایات کو مسخ کرنے کی کوشش ہے طلبا و طالبات کے پرامن احتجاج کو منتشر کرنا ریاست کے فرسودہ اور ظالمانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔اپنے بیان میں کہا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے بلوچستان کے کٹھ پتلی اعلی حکام نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اب بلوچ عوام کے پاس یہ حق بھی نہیں ہے اس سے قبل بھی بلوچستان کی انتظامیہ نے کئی بار اپنے آقاﺅں کے حکم پر عوام کے پرامن احتجاج کرنے والوں کو منتشر کرنے اور لاٹھی چارج سے عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور شہید نواب اکبر خان بگٹی کے بعد ریاست کے اس طرح کے غیر جمہوری ہتھکنڈوں میں تسلسل سے تیزی آئی مگر بلوچ اقوام کو اپنے حقوق کی جدوجہد سے کسی بھی صورت دستبردار نہیں کیا جا سکتا نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے مزید کہا۔کہ کوئٹہ کے انتظامیہ نے ہماری بچیوں کے سروں سے چادر کھینچے ان کو سڑکوں پر سر عام گھسیٹ کر غیر اخلاقی حرکات کو پروان چڑھاتے ہوئے بے شرمی اور بے غیرتی کی حد کردی بلوچ قوم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی بے عزتی کسی صورت برداشت نہیں کرے گی نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے بلوچستان کے طالبات سے گزارش کی کہ خدارا موجودہ بدنام اور بے عزت ریاست میں سڑکوں پر نکل کر ریاستی کاسہ لیسوں کی طرف سے اپنے آپ کو بے عزت نہ کروائیں کیونکہ موجودہ صوبائی حکومت اپنے آقاوں کے حکم پر یونیورسٹی کے شرمناک سکینڈل کی طرح سڑکوں پر اپنی بے حیائی اور بے غیرتی کو مزید عیاں کرتے ہوئے ہماری بچیوں، ماوں، اور بہنوں کو بے عزت کرنے سے دریغ نہیں کریگی۔ اور ناکام ریاست کا آخری حربہ ہماری خواتین کی بے حرمتی کرنا ہے۔






