نوشکی (نامہ نگار) صحافی معاشرہ کی روح اور آنکھ تصور ہوتے ہیں وہ تمام ترتعصبات سے بالاتر ہوکر علاقےمیں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اپنے قلم کے ذریعے اپنا مثبت کردار ادا کریں نوشکی پریس کلب کے صحافیوں نےنوشکی سمیت پورے بلوچستان کو رواداری کا مثبت پیغام دیا پے، صحافی برادری نوشکی کے جملہ مسائل کو میڈیا میں اجاگر کریں، صحافت ایک مقدس پیشہ پے جسکا تقدس ہر حال میں برقرار رکھا جائے گا، ان خیالات کا اظہار نوشکی پریس کلب کے بلڈنگ (مرحوم) حاجی عبدالمجید بادینی کانفرنس ہال میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے ممبر میر خورشید احمد جمالدینی کی جانب سے نوشکی پریس کلب رجسٹرڈ کے نومنتخب کابینہ کے عہدیداروں کے اعزاز میں دئیے گئے استقبالیہ سے نوشکی پریس کلب کے نومنتخب صدر حاجی طیب یلانزئی، بی این پی کے سی سی ممبر میر خورشید احمد جمالدینی، نذیر بلوچ، میر ثناء اللہ جمالدینی، جمعیت علماء اسلام کے حافظ عبداللہ گورگیج، شاعر و ادیب واجہ لطیف الملک بادینی، صحافی یعقوب بلوچ ، بی ایس او پجار کے حق نواز بلوچ بی این پی کے زاہد بلوچ اور چیف عطاء اللہ بلوچ نے اپنے خطاب کے دوران کہی انہوں نے کہاکہ صحافت اور صحافی معاشرے کو آگئے لیجانے میں اہم رول رہا ہے، بہترین صحافی وہ ہے جو علاقہ کے جملہ مسائل کو میڈیا میں اجاگر کریں ، مسائل کے حل کے لئے لوگوں کا رائے لیں ، سچ بولنے والے کو ہمیشہ بندوق کے ذریعے خاموش کیا گیا ہے، سیاسی ورکر اور صحافی ہمیشہ سچ بولنے کے مشن کو آگئے لے گئے ہیں، نوشکی سمیت پورے بلوچستان کو نوشکی پریس کلب کے صحافیوں نے رواداری کا پیغام دیا ہے ، علاقے میں خونی رنجشوں کے خاتمے کے لئیے میڈیا مثبت رول اور کردار ادا کرسکتا ہے انہوں نے کہاکہ سیاسی جمود جب بھی چائے رہتی ہے تو خوف کو ختم کرنے کے لئیے میر خورشید احمد جمالدینی کا نمایا کردار رہاہے ،صحافیوں کے ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنا کردار ادا کریں ۔ پولیٹیکل ورکروں کے بعد صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے، سچ لکھنے کے پاداش میں میڈیا کو ہمیشہ زیر کیا گیا ہے، انٹر نیٹ نہ ہونے سے طلباء کے ساتھ ساتھ صحافیوں کو بھی اپنے فرض منصبی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے، صحافی برادری پریس کلب کے پلیٹ فارم سے نوشکی کے جملہ مسائل کو بہتر انداز میں اجاگر کریں ، تاکہ لوگوں کا شعور و آگاہی ممکن ہوسکیں ،سیاسی ورکر اور صحافی برادری بھی سوشل میڈیا پر منفی رحجانات کوختم کرنے کے لئیے اپنا کردار ادا کریں، اشتعال انگیزی اور ڈس انفارمیشن کو پسے پشت ڈالے، انہوں نے کہاکہ سچ بولے بغیر گندگی اور برائیوں کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا، صحافت ایک پیغمبرانہ پیشہ ہے، صحافت ہمارے سماجی ، سیاسی، مذہبی، اقتصادی اور قبائلی ضرورت ہے،صحافی معاشرہ کی روح اور آنکھ تصور ہوتے ہیں وہ تمام ترتعصبات سے بالاتر ہوکر علاقےمیں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اپنے قلم کے ذریعے اپنا کردار ادا کریں صحافی ہمیشہ قبائلی، مذہبی اور سیاست سے بالاتر ہوکر تمام پولیٹیکل پارٹیز کو برابری کے بنیاد پر کوریج کررہے ہیں
