اسلام آباد:وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب نے کہاہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کیا ہے، اس سے قبل مسلم لیگ ن کے دور میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 31روپے فی لٹر اضافہ ہوا تھا،آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مانیٹرنگ کےلئے اوگرا قوانین میں تبدیلی کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو اوگرا ایکٹ میں بھی ترمیم کریں گے ملک بھر میں غیر قانونی پٹرول پمپس کو سیل کرنے کےلئے بھی اقدامات شروع کردئیے گئے ہیں ۔ہفتہ کے روز مشیر برائے پٹرولیم ندیم بابر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب نے کہاکہ عالمی منڈی میں گذشتہ 45دنوں سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 112فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان میں عوام کو ریلیف دینے کےلئے صرف 25فیصد اضافہ کیا گیا ہے انہوںنے کہاکہ اس وقت بھی پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پڑوسی ممالک سے کم ہیں انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کے مطابق تمام حقائق قوم کے سامنے رکھے جارہے ہیں اور کوئی بھی امر عوام سے پوشیدہ نہیں رکھا گیا ہے انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت سے قبل مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں جون اور اگست 2014میں پڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 31روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا تھا اس موقع پر مشیر پٹرولیم ندیم بابر نے کہاکہ 18مئی کو پی ایس او نے 21.7ڈالر فی بیرل کے حساب سے عالمی منڈی میںتیل خریدا تھا اور اس کے بعد سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا تھا اور 20جون کو یہ قیمتیں 44ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی اور اس میں 44فیصد اضافہ ہوگیا تھا انہوںنے کہاکہ اگر 30جون تک انتظار کرتے تو یہ اضافہ 30روپے فی لٹر سے زیادہ ہونے کا امکان تھا اس کی وجہ سے حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کےلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30جون سے قبل ہی اضافہ کردیا ہے انہوںنے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین وزارت پٹرولیم کرتی ہے تاہم اوگرا پی ایس او کے پورے مہینے کی تیل کی خریداری کا حساب کرکے سفارشات تیار کرتی ہے انہوںنے کہاکہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باوجود آئیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فائدہ کی بجائے معمولی نقصان برداشت کرنا پڑے گاانہوںنے کہاکہ اوگرا قوانین کے مطابق آئیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اپنے پاس 21دن کا سٹاک رکھنا پڑتا ہے مگر حالیہ بحران کے دنوں میں یہ معلوم ہوا کہ آئیل کمپنیوں کے پاس مطلوبہ مقدار میں سٹاک موجود نہیں تھا اور اس حوالے سے اوگرا کے قوانین میں سقم کی وجہ سے ان کمپنیوں کے خلاف ابھی تک موثر کاروائی نہیں کی جاسکی ہے انہوں نے کہاکہ جب تک اوگرا کو مضبوط کرکے اس کے انفورسمنٹ کے نظام کو بہتر نہ بنایا جائے اس وقت تک حالات درست نہیں ہوسکتے ہیں ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہاکہ اس وقت پورے ملک میں ساڑے تین ہزار کے قریب پٹرول پمپس قانونی جبکہ 1500کے قریب غیر قانونی پٹرول پمپس موجود ہیں جن کا کسی بھی آئیل کمپنی کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت اوگرا کے قوانین میں تبدیلی کرکے آئیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف اقدامات پر غور کر رہی ہے اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اوگرا ایکٹ میں بھی تبدیلی کی جائے گی انہوںنے کہاکہ ملک بھر میں تیل کی کھپت پر نظر رکھنے کےلئے تمام آئیل ڈپوز کو کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ منسلک کیا جائے گا تاکہ روزانہ کی بنیادپر ان کی مانیٹرنگ کی جاسکے اس کے بعد دوسرے مرحلے میں تمام قانونی پٹرول پمپس کو کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ منسلک کیا جائے گا انہوںنے کہاکہ جون 2019کے مقابلے میں جون 2020کے دوران پٹرول پمپس کی جانب سے 55فیصد زائد تیل کی خریداری کی گئی ہے اور اس کا مطلب ہے کہ اس مہینے کے دوران زیادہ تیل ذخیرہ کیا گیا ہے اس سلسلے کو ختم کرنے کے لئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں انہوںنے کہاکہ ملک بھر میں غیر قانونی پٹرول پمپس کے خلاف کاروائی کےلئے اوگرااور تمام اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو تفصیلات ارسال کی گئی ہیں اور خیبر پختونخوا میں اس پر کاروائی بھی شروع کرکے 60سے 70کے قریب غیر قانونی پٹرول پمپس کو سیل بھی کیا گیا ہے
