خضدار: صدر جمعیت طلبا اسلام خضدار بلال احمد مردوئی،صوبائی رہنماءحافظ جمیل احمد ابرار جنرل سیکریٹری حافظ ابوذر غفاری ولی اللہ شاہوانی ترجمان جمعیت طلبا اسلام خضدار اور دائود کرد نے خضدار پریس کلب میں پریس کانفرس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جہاں دوسرے شعبے زوال پزیری کا شکار ہیں وہاں تعلیم جیسی بنیادی نوعیت کے اہم شعبے کو جان بوجھ کر تنزلی کی جانب لے جایا جا رہاہے کرونا وائرس کے نتیجے میں لاک ڈائون سے رواں تعلیمی سال کے آغاز سے اب تک حصول تعلیم کا سلسلہ منقطع ہے جسے ہم قومی نقصان تصور کرتے ہیں دوسری جانب حکومت وقت نے بلا سوچے سمجھے صوبے میں آن لائن کلاسز کا اجرا کرکے تعلیم کے حصول کو اور پیچیدہ اور ناممکن بنادیا ہے آن لائن کلاسز کا اجرا وہاں ممکن ہوتا ہے جہاں طلبا مالی وسائل رکھتے ہوں ان کے پاس انٹر نیٹ کی سہولت ہمہ وقت موجود ہو انہوں نے کہا ہم سمجھتے ہیں اس عمل سے طبقاتی طرز تعلیم کو فروغ ملے گا اور غریب تعلیم کی سہولت سے یکسر محروم ہوجائے گا صوبہ بلوچستان میں بسنے والے کوسوں میل دور دراز علاقوں میں آباد ہیں انہیں اپنے اپنے علاقوں تک حصول تعلیم کے لئے کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایسے میں آن لائن کلاسز کا اجرا غریب طلبا کے ساتھ سرا سر زیادتی ہوگی ان کا کہنا تھا کہ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے طلبا کے مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے کبھی سکندر شہید یونیورسٹی تو کبھی بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل اور کبھی بولان میڈیکل کالج ان جیسے تمام مسائل انکی تعلیم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہیں اس تعلیم دشمن پالیسی کے رد عمل میں گزشتہ کئی دنوں سے طلبا آئین پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے پر امن احتجاج کا راستہ اپنایا جس کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں آن لائن کلاسز کے ذریعے نظام تعلیم نہیں چاہیے کیونکہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں انٹر نیٹ کی سہولت میسر نہیں جس پر موجودہ حکومت نے طالبات پر ڈنڈے برسائے اور انہیں پابند سلاسل کیا ہم سمجھتے ہیں کہ خود ساختہ جمہوری دور میں بدترین آمریت کی انتہا ہے کہ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو پولیس گردی کے ذریعے گرفتار کرکے دہشت گردی کی انتہا کردی جسکی جمعیت طلبا اسلام بھرپور مذمت کرتی ہے یہ عمل اسلامی اور بلوچی روایات کے برخلاف اور اور روایات کو پامال کرنے کے مترادف ہے بلوچستان میں ایسے اقدامات طلبا اور طالبات کو تعلیم سے دور کرنے کی ایک سازش ہے جمعیت طلبا اسلام کے رہنما¶ں نے مطالبہ کیا کہ آن لائن کلاسز کے فیصلے پر نذر ثانی کی جائے بلوچستان میں یکساں اور پر امن تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے
