دالبندین ۔ محمد بخش بلوچ سے) نیشنل پارٹی کے سابقہ سی سی ممبر واجہ سنگت سعید بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی بلوچستان کے طلباء کے ساتھ سنگین ناانصافیاں کی ہیں جو کہ صوبے کے طلباء اور نوجوانوں کے ساتھ سراسر ظلم و ناانصافی کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی سہولت بند ہوجانے سے آن لائن کلاسز میں کیسا حصہ لیا جاسکتا ہے جبکہ صوبے کے 75 فیصد لوگ اس جدید اور ترقیافتہ دور میں بھی بجلی سے محروم ہو کر قرون وسطی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں جبکہ کوئیٹہ میں آن لائن کلاسز کے اجراء کے خلاف طلباء و طالبات مجبورآ سڑکوں پر احتجاج کرتی ہیں تو پولیس انھیں سڑکوں پر گھسیٹ گھسیٹ کر تشدد کرکے انھیں جیلوں کے سلاخوں کے پیچھے بند کر دیتی ہے بلوچستان جیسے صوبے میں خواتین کو گھسیٹنا اور زبردستی ٹرکوں میں ڈال کر جیلوں میں بند کرنا کہاں کی انسانیت ہے ایسا عمل تو جنگی قیدیوں سے بھی نہیں کیا جاسکتا حکمران اپنی مراعات بینک بیلنس بڑھانے کے لیے سالانہ بجٹ کا بڑا حصہ ہڑپ کر جاتے ہیں مگر افسوس کہ طلباء کو آن لائن کلاسز کےلئے لیپ ٹاپ ۔انٹر نیٹ کی سہولت دینے کی بجائے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے زور زبردستی آن لائن کلاسز کا اجراء اور طلباء کی گرفتاری و تشدد صوبے کے عوام کے ساتھ جاری مظالم کا تسلسل ہے تاکہ یہاں کے طلباء و طالبات حصول علم کی بجائے مزید ناخواندگی و پسماندگی کے شکار بن جائیں تاکہ حکمرانوں اور مقتدر قوتوں کو صوبے کے وسائل اور ساحل پر قبضہ گیری اور حکمرانی کا یہ تسلسل جاری رکھنا پڑے کیونکہ تعلیم یافتہ معاشروں میں ظلم و ناانصافی کا سورج غروب ہونے میں دیر نہیں لگتی نیشنل پارٹی طلباء کے جائز حقوق کے لیے ان کا بھر پور ساتھ دے گی ۔
