کوئٹہ :ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ جناب منیر آغا نے 9سالہ بچی کے اغواءمیں معاونت کے الزام میں بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماءوسینیٹر سرفرازبگٹی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔گزشتہ روز عدالت کے روبرو کیس کی سماعت ہوئی توعدالت نے سینیٹرسرفرازبگٹی کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کوحکم دیا کہ سرفرازبگٹی کو گرفتار کرکے 24جولائی کو عدالت میں پیش کرے ۔واضح رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماءوسینیٹرمیر سرفرازبگٹی پر ایک 9 سالہ بچی ماریہ کے اغواءمیں معاونت کا الزام ہے ، بچی ماریہ کی نانی نے مقدمے میں بچی کے والد توکل بگٹی کے ساتھ سرفراز بگٹی کوبھی اغوا کے مقدمے میں نامزد کیا ہے۔ کوئٹہ بجلی روڈ پولیس اسٹیشن میں دائر ایف آئی آر کے مطابق نانی اپنی نواسی ماریہ کوعدالتی حکم پر اس کے باپ توکلی بگٹی سے ملوانے عدالت لے گئی تھی ، عدالت میں پیشی کے موقع پر بچی کا والد لڑکی کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر گھر لے گیا تھا ، ایف آئی آر کے مطابق بچی کی والدہ سحرش نامی خاتون کے مبینہ قتل کے بعد عدالت نے اس کی بیٹی کو نانی کے حوالے کیا تھا۔ سرفرازبگٹی نے گرفتاری سے بچنے کیلئے پہلے بلوچستان ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے رجوع کیا تھا ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی تھی جس پر وہ ضمانت کیلئے سپریم کورٹ چلے گئے تاہم سپریم کورٹ میں بھی ان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی تھی ۔






