اے این پی کو حکومت سے نکالنے جمعیت کو شامل کرنے سے متعلق معلومات نہیں ‘ ظہور بلیدی

اے این پی کو حکومت سے نکالنے جمعیت کو شامل کرنے سے متعلق معلومات نہیں ‘ ظہور بلیدی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ:صوبائی وزیر اطلاعات وخزانہ میر ظہوراحمد بلیدی نے کہاہے کہ قانون ساز،پالیسی ساز،بیوروکریسی آئین پاکستان کے تحت کام کرے تو ملک کو ترقی کی راہ پرگامزن کیاجاسکتاہے ،بلوچستان سے میرٹ پر ٹریننگ کےلئے افسران کاانتخاب ہوگااین آئی ایم بلوچستان میں مینجمنٹ کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہا ہے امید ہے کہ تربیت مکمل کرنے والے افسران عوام کی فلاح و بہبود کےلئے کام کریںاے این پی کوحکومت سے نکالنے وجمعیت کو شامل کرنے سے متعلق معلومات نہیں ،اپوزیشن جماعتیں فارغ تھی ریکوزیشن اجلاس بلالیا ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے نیشنل انسٹیٹیوٹ اف مینجمنٹ کی جانب سے(29) انتیسویں مڈکیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکاءافسران میں اسناد کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 45 شرکاءمیںاسناد تقسیم کئے گئے شرکا کو 16 ہفتوں کی تربیت کے دوران کورس میں شامل مختلف شعبوں میں تربیت دی گئی ۔اس موقع پر ڈی جی این آئی ایم سعد سکندر بھی موجود تھے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراطلاعت بلوچستان ظہور بلیدی نے کہاکہ نیشنل انسٹیٹیوٹ اف مینجمنٹ بلوچستان میں مینجمنٹ کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہا ہے بلوچستان سے میرٹ پر ٹریننگ کے لئے افسران کومنتخب کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ پاکستان میں پالیسی میکرز نے کبھی شعبے سے وابستہ کام نہیں کیا جس کی وجہ سے مشکلات بڑھ گئی ،انہوں نے کہاکہ قانون ساز پالیسی ساز بیورو کریسی آئین پاکستان کے مطابق کام کرے ملک آگے جائے گا تربیت مکمل کرنے والے افسران عوام کی فلاح و بہبود کےلئے کام کریں ۔بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ میر ظہوربلیدی کاکہناتھاکہ بلوچستان میں کورونا وائرس کی وجہ سے اسمبلی اجلاس کم ہوئے ،انہوں نے اپوزیشن پرطنز کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن جماعتیں فارغ تھیں اسی لئے انھوں نے ریکوزیشن اجلاس بلایا عوامی نیشنل پارٹی کو حکومت سے نکالنے اور جمعیت کو شامل کرنے سے متعلق میرے پاس کوئی معلومات نہیں ،انہوں نے کہاکہ بی اے پی کے جن رہنماﺅں کو نیب نے طلب کیا وہ اپنا جواب داخل کرائیں گے سینیٹر سرفراز بگٹی ہمارے بہت اچھے دوست ہیں اگر عدالت نے انکے خلاف کوئی ایکشن لیا تو وہ اسے قانونی طور پر حل کرینگے اس معاملے میں سرفراز بگٹی کا موقف ہے کہ انہیں غیر ضروری مقدمے میں پھنسایا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی این آئی ایم سعد سکندر نے کہاکہ 29ویںمڈ کیرئر کورس کے دوران ملک سے 45 افسران نے تربیت مکمل کی مگر افسوس کہ ہمارا کیمپس سولہ سالوں سے مکمل نہیں ہو سکا حکومت اگر ہمیں گرانٹ دے یہ ہمارے لئے باعث افتخار ہے ماضی میں ہمارے پاس سہولیات کا فقدان تھا کورونا کے دوران بیرون ملک اور ملکی جامعات سے کورس کے شرکا کو لیکچر دلوائے سعد سکندر نے کہاکہ کوئٹہ میں علم کا خزانہ یہ شہر ہر لحاظ سے ممتاز ہے ملک بھر کے افسران یہاں تربیت لینے آتے ہیں انہوں نے کہاکہ مڈ کیرئیر تربیت کے دوران پانچ مختلف کورس کروائے گئے کورونا وائرس کی وبا میں بھی ادارے نے خدمت جاری رکھی این آئی ایم بلوچستان کی شان 55 فیصد ادارے یہاں سے استفادہ کر رہے ہیں نم کے مالی مسائل کو دور کرکے اسے مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے بلوچستان میں انتظامیہ سے رابطے کے فقدان کو ختم کیا جارہا ہے افسران کی تربیت میں وقت کی پابندی اور لباس کو ترجیح دی جاتی ہے ،انہوں نے کہاکہ افسران کی تربیت کا فائدہ بلوچستان کے عوام کو ہوتا ہے نم کے دروازے افسران کیلئے ہمیشہ کھلے رہیں گے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!