مستونگ///چیف آف سراوان نواب محمداسلم خان رئیسانی کے فرزند نوابزادہ رئیس خان رئیسانی نے کہاہے کہ بلوچستان کو لاوارث سمجھ کے دیگر صوبوں کے بیروکریٹس کی مدد سے بلوچستان کے حقوق پر ڈاکہ زنی کی سخت مزمت کرتےہیں جعلی لوکل و ڈومیسائل کے زریعے وفاقی محکموں کے بلوچستان کوٹہ کے ہزاروں پوسٹوں پر دوکھ دہی اور فراڈ سے بھرتیاں کی گئی ہیں جس سے بلوچستان کے لاکھوں غریب اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مزید مایوسی پہیل گئی ہے اور بلوچستان کے حقوق پر جعل سازی کے ساتھ دھوکہ فراڈ کے زریعے وفاق میں تعیناتیاں کی جاتی رہی ہیں اور ان تمام دھوکہ میں دیگر صوبوں کے بیروکریٹ اور دیگر عناصر شامل ہیں جس کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔انھوں نے کہاکہ مستونگ سے چار سو جعلی لوکل پر تعیانات ہونے والے عناصر کی لوکل و ڈومیسائل کی منسوخی خوش آئند ہے مگر یہ اقدام ناکافی ہے ان تمام افراد کو بلاتاخیر نوکریوں سے فارغ کرکے سخت سزا دی جائے۔انھوں نے کہاکہ جعلی لوکل و ڈومیسائل پر بھرتی ہونے والے عناصر کے خلاف مستونگ سے کاروائی کا آغاز ہوا اور صوبہ بھر کے تمام کمشنرز اور ڈی سیز بھی فوری کاروائی عمل میں لائے اور جعلی لوکل و ڈومیسائل بنانے والے عناصر کے خلاف بھی قانونی کاروائی کی جائے کیونکہ بلوچستان کے حقوق پر ڈاکہ زنی کرنے کے جرم میں برابر کے شریک ہیں ان شراکت داروں کو جن کے وقت میں یہ جعلی لوکل و ڈومیسائل بنے ہے انکے خلاف بھی قانونی کاروائی کرکے انہیں بھی بےنقاب کیاجائے۔انھوں نے کہاکہ بلوچستان کو لاوارث سمجنے والے یہ نہ سمجے کے بلوچستان لاوارث ہے اور یہاں کے حقوق کی لوٹ مار کرینگے بلوچستان کے حق و حقوق کے حصول اور ناانصافیوں کے خلاف ہر فورم پر جدوجہد کرتے ہوئے آواز اٹھاتے رہےنگے۔انھوں نے چیف جسٹس بلوچستان سے مطالبہ کیاہیکہ وہ اس اہم مسلے کا از خود نوٹس لے کرجعلی لوکل پر تمام تعیناتیاں منسوخ کرکے اصل کرداروں کو سخت سزا دے۔






