لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف کی طبیعت ناساز ہو گئی جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیدیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے خود کو قرنطینہ کیا ہوا، اس دوران سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے قوم کو آگاہ کیا تھا کہ میرا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آ گیا جس کے بعد میں نے خود کو گھر میں آئسولیٹ کر لیا ہے۔ انہوں نے قرنطینہ کے دوران کورونا وائرس کو شکست دی تھی۔کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے ان کو ٹیلیفون کر کے خیریت دریافت کی تھی۔اسی طرح پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی لیگی صدر کو ٹیلیفون کیا تھا اور جلد صحت یابی کے لیے دعا کی تھی جبکہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے بھی ٹیلیفون کر کے صحت یابی سے متعلق نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔ٹیلیفون فون کرنے والوں میں چینی سفیر اور دیگر سفارتی عملہ بھی شامل تھا۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی طبیعت ایک مرتبہ پھر ناساز ہوئی ہے، جس کے بعد فوری طور پر ڈاکٹرز نے ان کا معائنہ کیا ہے اور انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز لیگی صدر شہباز شریف کی لاہور ہائیکورٹ میں پیشی کے بعد طبیعت ناساز ہوئی، مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران بھی شہباز شریف کی طبیعت کی خرابی کا ذکر کیا تھا۔میڈیا کوآرڈینیٹر برائے شہباز شریف بدر شہباز کا کہنا ہے کہ طبیعت خراب ہونے کے بعد ڈاکٹروں کی طرف سے لیگی صدر کو ڈرپ بھی لگائی گئی
