سکھر: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت نے کلبھوشن یادیو کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خفیہ آرڈیننس پیش کیا ،اگر یہ آرڈیننس ہم لے آتے تو ہمارا جینا حرام کردیا جاتا، پاکستان میں قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہیے،خورشید شاہ کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، جبکہ آزاد عدلیہ کے لیے پیپلز پارٹی نے جدو جہد کی۔سکھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ، تحریک انصاف کی حکومت نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خفیہ آرڈیننس پیش کیا ہے، جس سے متعلق نہ اپوزیشن کو بتایا گیا نہ پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیا گیا۔یہ آرڈیننس غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، حکومت بھارتی جاسوس کو سہولت کیوں دے رہی ہے؟ آرڈیننس کا کلبھوشن نے فائدہ لینے سے انکار کردیا ہے جبکہ اس نے بھارت کا جاسوس ہونےکا اعتراف کرلیا ہے۔ اگر آرڈیننس لانے کی ضرورت بھی تھی تو حکومت کو اپوزیشن اور عوام کو بتانا چاہیے تھا، یہ حکومت کا غیر معمولی اقدام ہے، اگر اس قسم کا آرڈیننس ہم لے آتے تو ہمارا جینا حرام کردیا جاتا، اگر ایسا آرڈیننس ہم لے آتے تو دفاع پاکستان کونسل اسلام آباد میں دھرنا دے دیتی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہیے، خورشید شاہ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور وہ واحد رکن اسمبلی ہیں جن کی ضمانت نہیں ہو رہی۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، سلیکٹڈ وزیر اعظم ملک کا وزیر اعظم نہیں ہونا چاہیے، عمران خان پی ٹی آئی اور سوشل میڈیا کے وزیر اعظم ہیں، عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم بننے کو تیار نہیں، وہ ملک کی قیادت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے، وہ کہتے ہیں خارجہ پالیسی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے، کلبھوش کو آرڈیننس دے رہے ہیں، کیا یہ آپ کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے؟۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کو واپس ون یونٹ فارمولا پر لے جانا چاہتے ہیں، آج بھی این ایف سی پر حملے ہو رہے ہیں، عمران خان کہتے ہیں وزرائے اعلی ڈکٹیٹرز ہیں جبکہ اس سال سندھ کو 229 ارب روپے کم ملے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ لوگ جے آئی ٹی، جے آئی ٹی کھیل رہے ہیں اور لیاری کے عوام کی کردارکشی کر رہے ہیں، کراچی میں رہنے والوں کوپتا ہے جب پورا کراچی جل رہا تھا تو آپ لیاری میں پناہ لیتے تھے، جب کراچی بند ہوتا تھا تو جرائم لیاری سے نہیں ہوتے تھے وہ جرائم کوئی اور کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ‘لیاری کےگینگسٹرز اسامہ بن لادن سے تو کم تھے، اسامہ بن لادن کی جے آئی ٹی ہم نے آج تک نہیں دیکھی، احسان اللہ احسان اے پی ایس سانحے میں ملوث تھا اورپی ٹی آئی حکومت میں چھوڑ دیا گیا، عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہیں تو احسان اللہ احسان سے دھمکی دی جاتی ہے جبکہ کراچی میں سب سے خطرناک گینگسٹرز لیاری کے نہیں نائن زیرو کے تھے۔قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری نے کلبھوشن یادیو کو فائدہ پہنچانے والے مبینہ آرڈیننس کی کاپی ٹوئٹر پر شیئر کی تھی اور کہا تھا کہ ‘کلبھوشن یادیو کے حوالے سے وہ کون سا خفیہ آرڈیننس ہے جو سلیکٹڈ حکومت نے پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر متعارف کرایا؟ یہ بالکل ناقابل برداشت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اس آرڈیننس پر جواب اور احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں، جبکہ یہ ایک اور وجہ ہے کہ وزیر اعظم کو اب جانا چاہیے۔’
