مذاکراتی ٹیم میں رد و بدل کا مقصد ٹیم پر کنٹرول کو مضبوط بناناہے،طالبان

مذاکراتی ٹیم میں رد و بدل کا مقصد ٹیم پر کنٹرول کو مضبوط بناناہے،طالبان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کابل: افغان طالبان کی طرف سے اپنی مذاکراتی ٹیم میں رد و بدل کا مقصد اس ٹیم پر کنٹرول کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ٹیم مستقبل میں افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ طالبان کے کمانڈر ملا ہیبت اللہ اخونذادہ نے اپنے چار قریبی ساتھیوں کو اس ٹیم میں شامل کر لیا ہے۔ یہ مذاکراتی عمل مارچ میں شروع ہونا تھا تاہم افغانستان میں تشدد میں اضافے کی وجہ سے یہ مذاکرات تاخیر کا شکار ہو گئے۔ ایک اور پیش رفت میں ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کو اب طالبان کے عسکری شعبے کا نیا کمانڈر نامزد کر دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!