کوئٹہ:نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان نے جاری بیان میں ملک کے نامور صحافی و تجزیہ نگار مطیع اللہ جان کی اغوا نما گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت میں آئین وقانون کی دھجیاں بکھیرنا و ماورائے قانون اقدامات کاپیش آنا سوالیہ نشان ہے۔حق وسچ کو بزور قوت دبانا منفی عمل ہے جو کہ قابل مزمت ہے۔مرکزی حکومت مطیع اللہ جان کی بازیابی کو یقینی بنائے ۔بیان میں کہا گیا کہ ملک میں آزادی اظہار رائے سے خوفزدہ عناصر حقیقت میں ملک و عوام سے مخلص نہیں۔منفی پالیسیوں و رویوں پر تنقید کرنا باشعور سماج کی نشاندھی کرتا ہے۔اور ملک کا آئین ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق فراہم کرتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ سلیکٹڈ حکومت نے میڈیا کو جھکڑنے میں آمروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔میڈیا کی آزادی کو سلب کیا گیا۔ حکومت پر تنقید کرنے والے صحافی برادری کو سیاسی قیادت کی طرع انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔جنگ و جیو نیوز کے بانی میر شکیل الرحمن کو بھی حق وسچ اجاگر کرنے کی پاداش میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔جو کہ لمحہ فکریہ ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں اس سیاسی کارکنوں کو عرصہ دراز سے لاپتہ کیا جارہا ہے۔لیکن اب جو بھی حکومتی منفی پالیسیوں پر آواز اٹھاتا ہے تو اس کو جبری طور پر اغوا کیا جاتا ہے۔مطیع اللہ کی اسلام آباد میں اغوا حکومت کی سوالیہ نشان ہے۔
