اسلام آباد : وزیر اعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد نے کہا ہے کہ تاجروں کو سہولیات کی فراہمی اور کاروبارمیں آسانی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،عالمی وباءکورونا وائرس کی وجہ سےتاجروں اورکاروباری شخصیات کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، چمن باڈر سے ملحقہ علاقوں کی آباد ی اس سے براہ راست متاثر ہوئی ہے، برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو سہولیات کی فراہمی سے افغانستان اور پاکستان کے مابین تجارت میں اضافہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں چمن بارڈر کی بندش اور چمن باڈر سے ملحقہ علاقوں کی عوام کو درپیش مشکلات کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کے شرکاءسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اجلاس کے شرکاءنے چمن بارڈر اور اس کے ملحقہ علاقوں کے تاجروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے صوبائی حکام سے رابطہ کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں کہا کہ سرحد کی دونوں جانب ایک ہی قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔اجلاس میں مقامی لوگوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے صوبائی اور ضلعی حکام سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ممبران قومی اسمبلی محترمہ شندانہ گلزار ، محسن داوڑ ، علی وزیر، محمد صادق، محترمہ نفیسہ عنایت اللہ خٹک اور وزارت تجارت ، داخلہ ، صحت اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔پاک افغان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کی ٹاسک فورس برائے ٹریکنگ ایند اسکیننگ آف کنٹینر ز نے کنٹینرز کی اسکیننگ سے متعلق تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سکیننگ اور ٹریکنگ کا عمل پاک۔افغان تجارت کی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ٹاسک فورس نے افغانستان بارڈر پر برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کی سہولیات کے لیے کنٹینرز کی اسکیننگ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان محمد صادق خان بتایا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں باہمی تجارت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے تاجروں کی سہولت کے لیے اسکیننگ کے عمل کو آسان بنانے کی تجویز پیش کی۔انہوں نے کہا کہ اسکیننگ کے عمل میں تاخیر کی وجہ سے کنٹینرز میں موجود سامان خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ٹاسک فورس کا اجلاس ممبر قومی اسمبلی محمد یعقوب شیخ کی زیر صدارت ہوا۔ٹاسک فورس کے دوسرے اجلاس میں کسٹم اور ڈیمرج سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں ٹاسک فورس کے شرکائ کو بتایا گیا کہ کورونا وائرس وبائی مرض کی وجہ سے پاک۔ افغان تجارت متاثر ہوئی ہےاس لیے کنٹینرز پر عائد ڈیمرج چارجز پر چھوٹ دینے کی سفارش کی جائے۔ا ٹاسک فورس کے شرکاءنے کہا کہ دونوں ممالک کی عوام کی خوشحالی کے لئے دوطرفہ تجارت ضروری ہے۔ ٹاسک فورس نے COVID-19 وبائی مرض کی ہنگامی صورتحال کے دروان برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو خصوصی رعایت دینے کی سفارش کی۔ ٹاسک فورس نے ڈیمرج چارجز کے معاملات کو حل کرنے کے لیے صوبائی حکام اور دیگر گورنمنٹ اسٹیک ہولڈز کو آن بورڈ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ٹاسک فورس کے شرکاءنے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی پارلیمنٹ کے فعال کردار پر یقین رکھتے اور تاجروں اور کاروباری طبقے خصوصاََ افغانستان کے ساتھ تجارت کی راہ میں درپیش مسائل کو حل کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں





