کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی نے کہاہے کہ سریاب روڈ پر 8مختلف منصوبوں کے تحت 96کلو میٹر سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں پہلے مرحلے میں 31کلومیٹر سڑکیں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ 50کلو میٹر کے نکاسی آب کے منصوبے بھی بنا ئے جارہے ہیں۔ اگست میں کوئٹہ کے ماسٹر پلان پر کام شروع کردیا جائےگا ۔ دنیا کا ہر ملک دہشتگردی سے متاثر ہوا ہے اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے علاقوں میں جانا یا ان پر توجہ دینا چھوڑ دیںمیں زرغون روڈ اور لسبیلہ کا نہیں پورے بلوچستان کا وزیراعلیٰ ہوں ہم نے لوگوں کو امن کا پےغام دینا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز سریاب روڈ، لنک قمبرانی روڈ، قمبرانی روڈ، لوہڑ کاریز ،غریب آباد، حق آبادسمیت دیگر علاقوں کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، دورے کے موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے کوئٹہ پیکج کے تحت جاری سڑکوں کی تعمیر وتوسیع اور سپورٹس کمپلیکسز کے زیر تعمیر منصوبوں کا معائنہ کیا، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری زاہد سلیم، سیکریٹری مواصلات وتعمیرات نورالامین مینگل اور کمشنر کوئٹہ عثمان علی خان بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے،وزیرواعلیٰ نے اس موقع پر علاقے کے لوگوں سے مختلف مقامات پر بات چیت کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ان کی رائے پوچھی،سریاب کے عوام نے سڑکوں، سپورٹس کمپلیکس، نکاسیءآب اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے مزید کہا کہ کوئٹہ شہر کا ماسٹر پلان بنا نے کے لئے کمپنی سے تمام معاملات طے کر لئے گئے ہیں اگست میں کوئٹہ کے ماسٹر پلان پر کام شروع کردیا جائےگا اس منصوبے کے تحت کوئٹہ شہر میں بننے والی 12بڑی سڑکوں پر مکمل پلاننگ کے ساتھ کمرشل سرگرمیوں کو فروغ دیا جائےگا ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ترقیاتی کاموں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا سمجھوتے یا در گزر کا مطلب کرپشن کو فروغ دینا ہے کوئٹہ شہر کے ترقیاتی کاموں کی خود نگرانی کر رہا ہوں جبکہ سی ایم آئی ٹی ، سی اینڈ ڈبلیو، اینٹی کرپشن ، پی اینڈ ڈی سمیت دیگر محکموں کی کمیٹیاں بھی منصوبوںکی جانچ پڑتال کر کے ان پر نظر رکھ رہی ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سریاب روڈ پر 8مختلف منصوبوں کے تحت 96کلو میٹر سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں پہلے مرحلے میں 31کلومیٹر سڑکیں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ 50کلو میٹر کے نکاسی آب کے منصوبے بھی بنا ئے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ ماضی میں جن علاقوں پر توجہ نہیں دی گئی ان پر توجہ دیکر لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنا رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ پسماندہ علاقوں کو بھی بہتر سہولیات فراہم کریں تاکہ یہاں رہنے والے لوگوں کی مشکلات کو کم کیاجا سکے ،انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں کئی ایسے منصوبے تھے جو طویل عرصے سے التواءکا شکار تھے انہیں مکمل کیا جارہا ہے جبکہ ہماری کوشش ہے کہ کوئٹہ میں ہر سال نئے منصوبے شروع کرکے شہر کی سڑکوں کو بہتر کیا جائے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کچھ لوگ سڑکوں کی تعمیر کو پیسے کا ضیاع کہتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے سڑکوں کی تعمیر سے علاقوں تک رسائی اور وہاں رہنے والوں کی مشکلات میں کمی آتی ہے انہوں نے کہا کہ ٹھیکیداروں اور آفیسران کو ہدایت کی ہے کہ منصوبوں کی تکمیل ٹینڈر اور پلان کے مطابق اور منصوبوں کو مقرر ہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے سریاب روڈ کے ایک ہوٹل میں چائے پی اور وہاں موجود لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کی،وزیراعلیٰ نے سریاب روڈ، قمبرانی لنک روڈ، قمبرانی روڈ، لوہڑ کاریز، غریب آباد، حق آباد اور دیگر ملحقہ علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور ان کے معیار کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت


