بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت میں اب ہر عید پر لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے مطالبے کے ساتھ مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ رواں عید الفطر کے موقع پر بھی مظاہرین پریس کلب کے باہر جمع ہوئے تھے اور اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے ہڑتالی کیمپ میں شرکت کی تھی۔ عید کے پہلے روز جب لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے کوئٹہ شہر میں اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کیا تو جہانزیب کی والدہ بھی بیٹے کے عید کے کپڑوں اور جوتوں کے ساتھ اس مظاہرے میں شریک ہوئیں۔ ’جہانزیب کے لاپتہ ہونے کے بعد ہر عید پر نئے جوتے اور کپڑے اس امید کے ساتھ بنواتی ہوں کہ وہ آئے گا تو عید کے لیے ان کے نئے کپڑے اور جوتے تیار ہوں۔‘انھوں نے بتایا کہ جب عید کے دن گزر جاتے ہیں اور بیٹا نہیں آتا تو وہ ان کے نئے کپڑے اور جوتے کسی مستحق شخص کو دے دیتی ہیں تاکہ وہ ان کی بازیابی کے لیے دعا کرے۔ بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز گذشتہ کئی سال سے ہر عید پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کرتی ہے۔ اس احتجاج میں زیادہ تر لوگوں کا تعلق کوئٹہ شہر سے ہوتا ہے لیکن اس عید الاضحیٰ پرکوئٹہ شہر سے بہت دور آواران سے سیما بلوچ بھی اپنے چھوٹے بچے اور بھابی کے ساتھ اس مظاہرے میں شرکت کے لیے آئی تھیں۔ مظاہرے کے شرکا سے خطاب کے دوران حسان بلوچ کی بہن کی آنکھوں سے آنسو رواں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ایک بھائی کو پہلے لاپتہ کرنے کے بعد ان کی لاش پھینکی گئی اب دوسرے کو لاپتہ کیا گیا۔
