بیت المقدس : اسرائیلی حکومت نے مشرق وسطیٰ کے اہم ترین ملک لبنان کے دارالحکومت بیروت میں 4 اگست کو ہونے والے زوردار دھماکوں میں کسی طرح بھی ملوث ہونے کی تردید کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کے بعد اسرائیلی حکومت کے عہدیداروں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ دھماکوں میں اسرائیلی ہاتھ نہیں ہے۔اسرائیل کے وزیر خارجہ گابی اشکنازی نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ بیروت دھماکوں میں اسرائیل کا ہاتھ نہیں ہے۔ لبنانی میڈیارپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے دھماکوں میں ملوث ہونے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے لبنانی حکومت کو مدد کی پیش کش کی ہے۔دھماکوں کے بعد اسرائیل کے وزیر دفاع اور سابق آرمی چیف بینی گینٹز اور وزیر خارجہ گابی اشکنازی نے لبنانی حکومت سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے انسانی وسائل سمیت تکنیکی مدد کی پیش کش کی۔اگرچہ اسرائیلی حکومت نے بیروت دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، تاہم اس باوجود لبنانی سوشل میڈیا پر کئی افراد اور خصوصی طور پر حزب اللہ کے حمایتی دھماکوں کے الزامات اسرائیل پر لگا رہے ہیں۔






