اسلام آباد:بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل نے کہاہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں بلوں کی منظوری پراتفاق رائے پیدا ہورہی ہے لیکن بلوچستان نیشنل پارٹی اس اتفاق رائے میں شامل نہیں ہم کسی چلتی گاڑی کے مسافر نہیں کہ ایک سے اتریں اور دوسری میں بیٹھ جائیں ،کسی بیرونی یا اندرونی دباﺅ میں نہیںآینگے ،کھڑکی توڑنے والا دہشتگرد لیکن ملک کاآئین توڑنے والا دہشتگرد نہیں ،پہلے ملک کے آئین کو توڑنے والے کو دہشت گرد قرار دیں پھر ہم بل کا ساتھ دیں گے،بلوچستان میں موٹروے تک نہیں ،سی پیک سے بلوچستان کو نکال دیاجائے تو اس کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی ،2019-20ءکی پی ایس ڈپی کاحصہ رہنے والا کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو رواں مالی سال کی پی ایس ڈی پی سے نکال دیاگیاہے ، گوادر ،،پسنی اور جیونی میں پانی نہیں ،جیونی میں گزشتہ 30دنوں سے لوگ پینے کے پانی سے محروم ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ قومی اسمبلی بلیں زیر بحث آرہی ہے خوشی کی بات ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں بلوں کی منظوری پراتفاق رائے پیدا ہورہی ہے لیکن میں واضح کرناچاہتاہوں کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اس اتفاق رائے میں شامل نہیں ،جب ہم حکومت میں تھے تب بھی ہمیں کسی بھی فیصلے میں اعتماد میں نہیں لیاجاتاتھا اسوقت بھی ہم آزاد بینچز پر تھے اور آج بھی آزاد بینچز پر بیٹھے ہیں ،اب بھی اپوزیشن کی طرف سے کسی بھی بل میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا،ہم چلتی ہوئی گاڑی کے مسافر نہیں کہ ایک گاڑی سے اترے اور دوسرے میں بیٹھ جائے ،ہمارے کچھ اپنے اصول اور نقطہ نظر ہے شاہد ہی اس سے کسی کو اختلاف ہوں میں یہ واضح کروں کہ ہم نہ تو کسی کے ”ہاں “میں شامل ہیں اور نہ ہی ”نا“میں ۔یہ اندرونی دباﺅ ہے یا بیرونی ہم نے نہ کسی بیرونی دباﺅ پر کمپرومائز کیاہے اور نہ ہی اندرونی دباﺅ پر کمپرومائز کرینگے ،انہوں نے کہاکہ پہلے دہشتگرد کی وضاحت ہونی چاہے ،انہوں نے کہاکہ کیا ملک کے وزیرِ اعظم نواز شریف کو دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا تھا؟ کیا راجہ پرویز اشرف کو بھی دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا تھا؟اس ایوان کے اکثر بشمول میں خود اینٹی ٹریرسٹ عدالت میں پیش نہیں کیاگیاتھا انہوں نے یہ بھی کہا کہ کھڑکی کا شیشہ توڑنے والا دہشت گرد ہوتا ہے لیکن پاکستان کاآئین توڑنے والا دہشت گرد نہیں ہوتاتو کیا جناب اسپیکر شیشہ توڑنا اہم ہے جو جڑ بھی سکتاہے یا پاکستان کا آئین پہلے ملک کے آئین کو توڑنے والے کو دہشت گرد قرار دیں پھر ہم بل کا ساتھ دیں گے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی وزیر نے کہاکہ پنجاب ،سندھ خیبرپشتونخوا میں موٹروے ہے ،بلوچستان میں موٹروے اب تک دیکھا بھی نہیں ہے ،انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے بائی روڈ آنے کااتفاق ہوا ،سندھ ،پنجاب میں کشادہ روڈ دیکھے بلکہ ہمیں کہتاہوں کہ تمام صوبوں کے ہر علاقے میں بننے چاہئیں ایسے روڈ، لیکن ہمیں ایک وے تو دے دیں ،2019-20ءکی پی ایس ڈی پی میں کراچی ،خضدار ،خضدار کوئٹہ اور کوئٹہ چمن شاہراہ کوشامل کیاگیا تھا لیکن 2020-21ءکی پی ایس ڈی پی میں اس منصوبے کونکال لیاگیاہے ،وفاقی وزیر سے اب سنا کہ یہ شاہراہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے تعمیر کیاجارہاہے ،اس کے علاوہ کوئی بھی منصوبہ پاکستان میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے ہورہاہے ،انہوں نے سوال اٹھایاکہ یہ منصوبہ پی ایس ڈی پی میں کیوں نہیں شامل کیا؟ سی پیک سے اگر بلوچستان کونکال دیاجائے تو اس کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی ،سی پیک منصوبوں میں بلوچستان میں کتنے روڈ،موٹرویز بنی ہیں ہمیں بتایاجائے کہ کتنے نالیاں بنی ہیں ،سی پیک کے نام سے کرخ ،خضدار ریتوڈیرو جو بن گیاہے ،وفاقی وزیر نے پتہ نہیں اس پر سفر کیاہے یانہیں لیکن حالیہ بارشوں سے یہ پانی میں بہہ گیاہے مذکورہ شاہراہ بالکل بند ہیں اب اسی ٹھیکیدار کو بسیمہ ،نال خضدار روڈ دیاگیاہے پہلے انکوائری کرائی کہ پچھلی کارکردگی کیسی تھی ؟ بارشوں کی وجہ سے کوسٹل ہائی وے بلاک ہے ،بولان میں کوئٹہ اور سبی کومنسلک کرنے والا شاہراہ بلاک ہے ،خضدار ،کراچی روڈ بند ہے اس کی بحالی کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں ؟ گوادر ،پسنی اور جیونی میں پانی نہیں ہے جیونی میں گزشتہ 30دنوں سے لوگ پینے کے پانی سے محروم ہیں ۔






