حریری قتل میں عدالتی فیصلے کے بعد لبنان میں سیاسی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ

حریری قتل میں عدالتی فیصلے کے بعد لبنان میں سیاسی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

نیدر لینڈ کے ہیگ میں اقو ام متحدہ کی حمایت یافتہ ٹرائیبیونل نے منگل کے روز سماعت کے بعد جنگجو گروپ حزب اللہ کے ایک رکن سلیم جمیل عیاش کو 2005 میں لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کا قصور وار ٹھہرایا۔ ٹریبیونل نے تاہم حزب اللہ کے تین دیگراراکین اسد صابرا، حسن اونیسی اورحسن حبیب مہری کو قتل کے الزامات سے بری کردیا۔ اس فیصلے کے بعد لبنان میں مسلکی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے جو گزشتہ چار اگست کو بیروت بندرگاہ پر ہوئے دھماکے کے بعد سے پہلے سے ہی سیاسی افراتفری کا شکارہے۔ اس دھماکے میں 180سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ لبنانی وزیر اعظم حسن دیاب نے اس واقعے کے بعد استعفی دے دیا تھا۔اس کے علاوہ ملک کے معاشی حالات بھی ابتر ہیں اور لبنانی کرنسی کی قدر بھی مکمل طور پر گر گئی ہے جس سے ملک میں مہنگائی میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے اور بیروزگاری بڑھ گئی ہے۔ ادھر حزب اللہ کے حامیوں نے اس مقدمے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی طورپر غیر جانبدار نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے ٹرائیبیونل کے فیصلے کے بعد یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ کیا لبنان سلیم عیاش کو حوالے کردے گا تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت میں حزب اللہ اور ان کے اتحادیوں کو دیکھتے ہوئے اس کی توقع بہت کم ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ بھی مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ اپنی تحریک کے کسی رکن کو حوالے نہیں کریں گے اور ملزمان کے بارے میں ان کا اصرار ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔ انہوں نے ٹریبیونل کو حزب اللہ کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!