نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سینئر سیاستدان سینیٹر میر حاصل بزنجو کراچی میں انتقال کرگئے۔ حاصل بزنجو پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا تھے اور کراچی کے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی نے سینیٹر حاصل بزنجو کی کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ حاصل بزنجو کو طبیعت بگڑنے پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے اپنے ٹوئٹ میں میر حاصل بزنجو کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘حاصل بزنجو نے بلوچستان کے ممتاز سیاستدان کے طور پر اپنے صوبے کے عوام کی آواز اٹھائی جبکہ ترقی پسند اور حکمرانی پر مبنی سیاست کے لیے کھڑے رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میر حاصل بزنجو کی وفات کو ملک، جمہوری قوتوں اور بلوچستان کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ‘حاصل بزنجو آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے اور وہ بلوچستان میں ناانصافیوں کے خلاف مضبوط آواز تھے۔’ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹر کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا اور ان کے اہلخانہ اور دوستوں سے اظہار تعزیت کیا۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ٹوئٹر پر میر حاصل بزنجو کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور ان کی مغفرت و پسماندگان کو صبر جمیل کی دعا کی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (پی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بھی میر حاصل بزنجو کی وفات پر اظہار تعزیت کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما سینیٹر شیری رحمٰن نے بھی بلوچ سیاستدان کے انتقال پر دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ بہت بہادری سے سرطان جیسے مرض سے لڑے، ان کی عوامی زندگی ترقی پسند اور اصولی سیاست پر مبنی تھی جبکہ وہ کمزوروں کی آواز تھے، ان کے انتقال کے ساتھ ایک دور ختم ہوگیا۔
