صحافی صدیق جان نے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے سامنے نواز شریف اور شہباز شریف نے جو بیان حلفی جمع کروایا تھا اس کی تمام تر تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ صدیق جان نے کہا لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ قانونی نکات پر نہیں کیا، وفاقی وزیرفواد چوہدری نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے سے عدالتوں کی بھی سبکی ہورہی ہے، نظام انصاف پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، لاہورہائی کورٹ شہباز شریف کو بلا کر پوچھیں کہ آپ نے ضمانت دی تھی تو اب اس بیان حلفی پر کیوں عمل نہیں ہورہا۔ صدیق جان نے کہا کہ میاں محمد شہباز شریف نے اپنے بیان حلفی میں کہا کہ” کہ میں حلفا یقین دلاتا ہوں کہ میرا بھائی نواز شریف 4 ہفتوں کے اندر واپس آجائے گا، یا جب ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اب فٹ ہیں اور ان کی طبیعت بہتر ہے تو وہ واپس آجائیں گے”۔ شہباز شریف کے بیان حلفی میں مزید کہا گیا کہ عدالت کے رجسٹرار کو نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس تسلسل کے ساتھ بھجواتا رہوں گااور یہ تمام رپورٹس برطانیہ میں موجود پاکستانی سفارت خانے سے تصدیق شدہ ہوں گی، وفاقی حکومت کے پاس ایسی معلومات آنے کہ میاں نواز شریف فٹ ہونے کے باوجود باہر ملک رہ رہے ہیں تو اس ملک کے پاکستانی سفارت خانے کا کوئی بھی نمائندہ نواز شریف کے ڈاکٹروں سے ملنے کا حق رکھتا ہے”۔ صدیق جان نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے بیان حلفی میں لکھا”میں اپنے ماضی کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں قانون اور انصاف کے عمل کا سامنا کرنے کیلئے4 ہفتوں بعد پاکستان واپس آؤں گا، یا جیسے ہی ڈاکٹروں نے مجھےسفر کیلئے فٹ قرار دیا میں واپس آجاؤںگا، میں اپنے بھائی شہباز شریف کی جانب سے جمع کروائے گئے بیان حلفی کی پابندی کا اقرار کرتا ہوں”۔
