جنگ تھوپی گئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے،آرمی چیف

جنگ تھوپی گئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے،آرمی چیف

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

راولپنڈی:پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاہے کہ پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن ہم پر جنگ تھوپی گئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے،ہمیںنئے حاصل شدہ اسلحے کے انبار سے مرعوب کیا جا سکتا ہے نہ ہم پر کوئی دھمکی اثرانداز ہوسکتی ہے،بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کے بعد خطے کے امن کو ایک مرتبہ پھر شدید خطرات سے دوچار کردیا ، جموں و کشمیر کے حوالے سے ہم کسی بھی یکطرفہ فیصلے کو نہیں مانتے۔آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیوراولپنڈی میں فوجی اعزازات دینے کی تقریب منعقد ہوئی ۔آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔تقریب میںشہدا،غازیوں کے اہلخانہ،حاضرسروس افسران نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران آرمی چیف نے جرات کامظاہرہ کرنیوالے افسروں،جوانوں کواعزازات سے نوازا،آرمی چیف نے 40افسروں کو ستارہ امتیاز ملٹری سے نوازا ۔آئی ایس پی آر کے مطابق 24افسروں اور جوانوں کوتمغہ بسالت سے نوازاگیا جبکہ ایک جوان کو یونائٹیڈنیشن میڈل سے نوازاگیا اورشہدا کے اعزازات ان کے اہل خانہ نے وصول کئے ۔یوم دفاع کے حوالے سے منعقد تقریب میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہچھ ستمبر1965ءکا دِن ہماری تاریخ کا ایک لازوال باب ہے۔ یہ وہ دن ہے جب قوم کی یکجہتی، وطن سے محبت، قربانی اور بہادری کی بے شمار داستانیں رقم ہوئیں۔ پاکستانی قوم کے لیے چھ ستمبر صرف ایک دن نہیں بلکہ ہمارے حوصلے کی پہچان بھی ہے۔ یہ دِن1948، 1965، 1971، کارگل کی جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے شہیدوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے کل بھی اپنے سے کئی گنا بڑے د±شمن کو شکست دی تھی اور آج بھی د±شمن کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ آج بھی ہم اپنی آزادی کی حفاظت اپنے خون سے کر رہے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ گزشتہ بیس سالوں میں ہم بڑی آزمائش سے گزرے ہیں۔ مشرقی و مغربی سرحدوں پر حالتِ جنگ کا سامنا رہا، زلزلے اور سیلاب جیسی آزمائشیں بھی درپیش رہیں، دہشت گردی اور شدت گردی کے خلاف ہم نے اعصاب شکن جنگ لڑی، ہزاروں افراد کی قربانی دی اور لاکھوں دربدر ہوئے۔حال ہی میں کرونا جیسی وبا اور ٹڈی دل جیسی آفت کا بھی سامنا رہاجس کا ہم نے کامیابی سے مقابلہ کیا۔ آزمائش کی ان تمام گھڑیوں میں ہم حوصلہ نہیں ہارے بلکہ سینہ تان کر ڈٹ گئے۔ جس کی بدولت اللہ نے ہمیں فتح دی۔ بے شک اس محنت اور بے شمار قربانیوں کی بدولت، الحمدواللہ آج کا پاکستان ایک پرامن پاکستان ہے اور اب ہم نے اس امن کو خوشحالی اور ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ بحیثیت قوم ہمیں اس کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی۔اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں کو اپنانا ہوگا اور اپنے قائد کے فرمان کام، کام اور بس کام کو اپنانا ہوگا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ افواج ِپاکستان نے اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا حصہ بن کردنیا کے مختلف علاقوں میں قیام ِامن کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہیں۔جس کی دنیا معترف ہے۔ ہم پوری دنیا اوربالخصوص اپنے خطے میں امن کے خواہاں ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، تاہم ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان نے ہمیشہ کی طرح ایک غیرذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کے بعد خطے کے امن کو ایک مرتبہ پھر شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، اس حوالے سے ہم کسی بھی یکطرفہ فیصلے کوتسلیم نہیں کرتے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بانی ئِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قراردیا تھا۔میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ان کے اس قول کا ہر لفظ ہمارے لئے اہم اور ایمان کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے ہم کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ ہمیں نہ تو نئے حاصل شدہ اسلحے کے انبار سے مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہم پے کوئی دھمکی اثرانداز ہوسکتی ہے۔افواج پاکستان پوری قوت سے لیس، چوکنا اور باخبر ہیں۔ اور انشاءاللہ،دشمن کی کسی بھی حرکت کا فوری اور پوری قوت سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔وقت ہمیں کئی بار آزما چکا۔ہم ہر بار سرخرو ہوئے ہیں۔ پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے۔ ہمارا خون، ہمارا جذبہ، ہمارا عمل ہر محاذ پر اس کی گواہی دے گا۔ انہوں نے کہاکہ میں آج کے دن کی مناسبت سے اپنی قوم اور دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔لیکن اگر ہم پر جنگ تھوپی گئی تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے۔ جس کا مظاہرہ ہم نے بالاکوٹ کے ناکام حملے کے جواب میں دیا، اس لیے د±شمن کو کوئی شک نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!