لاہور : احتساب عدالت نے مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف فیملی کیخلاف منی لانڈرنگ کیس میں فرد جرم عائد کرنے کیلئے 11 نومبرکو طلب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت لاہور میں منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات سے متعلق ریفرنس پر سماعت ہوئی ۔ احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے ریفرنس کی سماعت کی ، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، حمزہ شہباز کو سخت سکیورٹی میں بکتر بند گاڑی میں کوٹ لکھپت جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے جیل ٹرائل سے متعلق ڈی جی نیب سے جواب طلب کررکھا ہے، دوران سماعت رش کی وجہ عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ، فاضل جج نے کہاکہ عدالت میں آج آپ نے پھر اتنا رش کردیا، میں نے کہاتھا کہ ایک حد تک افراد آنے دیں،ایسے تو کیس کی سماعت نہیں ہو سکے گی ۔شہبازشریف اورحمزہ شہبازکو وعدہ معاف 265 سی کے بیان کی کاپیاں مہیاکردی گئیں، شہباز شریف اور دیگر ملزمان کو وعدہ معاف گواہان کے بیانات وصول کروادیئے گئے،شہبازشریف نے کہاکہ مجھے اپنے وکیل سے مشورے کےلئے مختصر سا وقت دیں،عدالت میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی میڈیکل رپورٹس بھی جمع کروا دیں۔ عدالت نے شہباز شریف، حمزہ شہباز سمیت دیگرملزمان کوفرد جرم کی کارروائی کیلئے 11 نومبر کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔واضح رہے کہ 17 اگست کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کے دو بیٹوں اور خاندان کے دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔ 20 اگست کو لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔ ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے۔ شہباز شریف نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ذریعہ اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس اوراثاثہ جات کیس میں گرفتاری سے بچنے کے لئے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ۔
