لیہ: حکومت کے انسداد غربت کے احساس پروگرام کے تحصیل چوبارہ میں قائم دفتر میں کام کرنے والے ایک کلرک کو 9ویں جماعت کی طالبہ کا ریپ کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا، جو اسکیم میں رجسٹریشن کروانے مذکورہ دفتر آئی تھی۔ 15 سالہ لڑکی چک 377 ٹی ڈی کی رہائشی ہے جو ایک روز قبل اپنے انکل کے ساتھ چوبارہ تحصیل میں قائم دفتر پہنچی تھی جہاں ملزم کلرک کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ ملزم نے رجسٹریشن کے بہانے لڑکی کے گھر کا پتہ اور دیگر معلومات حاصل کی اور اتوار کے روز اس کے گھر پہنچ گیا جب اس کے والدین کھیتوں میں گئے ہوئے تھے۔ کلرک نے گھر میں لڑکی کو اکیلا پا کر اسے ریپ کا نشانہ بنایا، لڑکی کی چیخوں کی آواز سن کر جب پڑوسی وہاں پہنچے تو کھیتوں کی جانب فرار ہوگیا۔ لڑکی کے انکل کی مدعیت میں چوبارہ پولیس نے ملزم کے خلاف ریپ کے الزام میں ایف آئی آر درج کرلی۔ بعدازاں میڈیکو لیگل رپورٹ میں لڑکی کے ساتھ ریپ کی تصدیق ہوگئی جبکہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ قبل ازیں 25 اکتوبر کو لاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن کی پولیس نے تھیٹر کی اداکارہ کا ریپ کرنے کے الزام میں ایک پولیس اہلکار کو گرفتار کیا تھا۔ خیال رہے کہ اکتوبر کے وسط میں پنجاب کے ضلع قصور میں محض 48 گھنٹوں کے دوران پولیس کے پاس 4 خواتین اور 3 کم عمر لڑکوں کے مبینہ ریپ کے مقدمات درج ہوئے۔ اس سے قبل 5 اکتوبر کو راولپنڈی میں ایک ٹیکسی ڈرائیور نے ایک خاتون کو ان کے بیٹے کے سامنے بندوق کے زور پر جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔ خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک میں ریپ کے واقعات میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے اور 2 اکتوبر کو یہ رپورٹ ہوا تھا کہ لاہور میں ملزمان نے نوکری کا جھانسہ دے کر لڑکی کا مبینہ گینگ ریپ کردیا گیا جبکہ ملتان میں 10 سالہ کمسن لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کی گئی، جس کے 2 ملزمان کو پولیس کے حوالے بھی کردیا گیا۔ اس سے قبل یکم اکتوبر کو صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب میں بس کے انتظار میں کھڑی خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد نشہ آور مشروب پلا کر 6 افراد کے ان سے گینگ ریپ کی رپورٹ سامنے آئی تھی۔ اس سے قبل 20 ستمبر کو شوہر اور بچوں کی موجودگی میں 4 مسلح افراد نے خاتون کا مبینہ طور پر گینگ ریپ کیا تھا اور زیورات کے علاوہ 20 ہزار روپے بھی لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔






