یورپی ملک آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے وسطی علاقے میں مسلح افراد نے 6 مختلف مقامات پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 3 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے۔ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 2 میں سے ایک مسلح حملہ آور کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کردیا جبکہ ایک فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔ آسٹرین وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ ایک حملہ آور داعش کا حامی تھا، حملہ کرنے کا مقصد آسٹریا کے جمہوری معاشرے کو کمزور اور تقسیم کرنا تھا۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریا کے چانسلر سباستیان کرس نے اس حملے کو ’نفرت انگیز دہشت گردی‘ قرار دیا۔ پولیس نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک راہ گیر ہلاک ہوا جبکہ دوسرا فرد زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا، ان کے علاوہ 15 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جن میں سے 7 شدید زخمی ہیں اور ایک پولیس اہکار بھی حملے میں زخمی ہوا۔




