لاہور:لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کواختیارات دینے سے متعلق درخواست پر 13صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قرار دیا ہے کہ وفاقی حکومت کی گئی ترامیم کا صوبوں کی قانون سازی تک اطلاق نہیں ہوگا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مسعود نقوی اور جسٹس جواد حسن پرمشتمل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی کسی بھی ترمیم کا براہ راست صوبوں پر اطلاق نہیں ہوگا، وفاق اورپنجاب اپنے اپنے رولز اورآرٹیکل کے مطابق اختیارات استعمال کرسکتے ہیں۔وفاق اور صوبوں کے رولزآف بزنس مختلف ہیں ،اٹھارویں ترمیم سے پہلے وفاق اور صوبائی حکومت کنکریٹ لسٹ کے مطابق قانون سازی کرتی تھیں، اٹھارویں ترمیم کے بعد تمام تراختیارات صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں، وفاقی محتسب کا فیصلہ لاہورہائیکورٹ پر لاگو نہیں ہوتا،لاہور ہائیکورٹ صرف سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کی پابند ہے۔ درخواست گزارنے وفاقی حکومت کا فنانس سے متعلق نوٹیفکیشن کو پنجاب حکومت پر اطلاق کے سلسلہ میں عدالت سے رجوع کیا تھا۔ درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کوصوبائی حکومت پر بھی لاگو کرنے کا حکم دیا جائے۔ دورکنی بنچ نے درخواست خارج کرتے ہوئے قراردیا کہ وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کا اطلاق صوبائی حکومت پر نہیں ہوسکتا، اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق اور صوبائی حکومت اپنے اپنے قانون سازی کے ذریعے اقدامات کر سکتے ہیں۔






