اسلام آباد: سابق صدرآصف علی زرداری نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں اپنے خلاف زیرالتوا 4 ریفرنسز کو کراچی منتقل کرنے کے لیے دائر درخواستوں کو سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کی جانب سے واپس کیے جانے کے اقدام کو چیلنج کردیا۔ 4 علیحدہ درخواستوں کو واپس کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار نے آبزرو کیا تھا کہ درخواستوں کو سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کے دوسرے جائزے کی ضرورت تھی لہٰذا ان درخواستوں کو نہیں سنا جاسکتا۔ بعد ازاں گزشتہ روز سینئر وکیل سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سابق صدر کی جانب سے رجسٹرار آفس کے فیصلے کے خلاف چیمبر اپیلیں دائر کیں اور یہ اعتراض اٹھایا کہ یہ قانون کے زمرے میں نہیں آتا ساتھ ہی یہ سپریم کورٹ کی جانب سے بیان کردہ قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔ نئی درخواستوں میں کہا گیا کہ یہ درخواست گزار کا آئینی حق ہے کہ وہ انصاف کے محفوظ انتظام کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے لیکن رجسٹرار کے حکم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اپیل کرنے والے کے حق کو ادارہ جاتی سطح پر سلب کیا جارہا ہے۔ درخواستوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ درخواست کو ناقابل سماعت کہہ کر واپس کردینے کا عمل عدالتی کام سے متعلق ہے اور جسے مقننہ کی طرف سے یا پھر عدالتی طاقت کے کام کے استعمال کے لیے اختیار تفویض کرنے کرکے نہیں کیا جاسکتا۔
