ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل کا جواب دیا جائے گا مگر انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے ملک کو جلد بازی میں فیصلہ کرنے کے جال میں پھنسایا نہیں جا سکتا۔ محسن فخری زادہ پر جمعے کو دماوند کے علاقے ابسرد میں حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد وہ ہسپتال میں ہلاک ہوگئے تھے۔ ایران نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے سینیئر جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کی ہلاکت کا بدلہ لے گا جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے عندیہ دیا گیا تھا کہ اس معاملے میں اسرائیل ملوث ہے۔تاہم اب ایران کے صدر نے اسرائیل پر اس حملے کا براہِ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’متعلقہ حکام مناسب وقت پر اس جرم کا جواب دیں گے۔‘ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انھوں نے یہ بات کووڈ 19 ٹاسک فورس کے ایک اجلاس میں کہی جسے براہِ راست نشر کیا گیا تھا۔ صدر روحانی نے کہا: ‘ایران کے تمام دشمن اچھی طرح جان لیں کہ ایرانی قوم اور ملکی حکام اتنے بہادر ہیں کہ وہ اس مجرمانہ فعل کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گے۔ انھوں نے اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم اتنی دانشمند ہے کہ وہ اس جال میں نہیں آئے گی، اور کہا کہ اسرائیل کا ‘مقصد افراتفری پھیلانا’ ہے۔ اس سے قبل ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے عسکری مشیر حسین دیغان نے کہا تھا کہ وہ اس حملے کے رتکب افراد پر طوفان کی طرح ‘چوٹ’ پہنچائیں گے۔مغربی انٹیلیجنس اداروں کا خیال ہے کہ فخری زادہ ایران کے خفیہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے روحِ رواں تھے اور کئی ممالک کے سفارتکار انھیں ’ایران کے بم کا باپ‘ بھی کہتے تھے۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر ماجد تخت روانچی نے کہا کہ یہ قتل بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے اور اس کا مقصد خطے میں افراتفری پھیلانا ہے۔ ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اسے ایک ’ریاستی دہشتگردی‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے ’اشارے‘ ہیں۔ ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا ہے کہ ’اس بزدلانہ (کارروائی) سے، جس میں اسرائیل کے کردار کے اشارے ہیں، یہ نظر آتا ہے کہ اس کے مرتکب جنگ کے لیے کتنے بے تاب ہیں۔‘ انھوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ’ریاستی دہشت گردی کے اس عمل‘ کی مذمت کرے۔ اپریل 2018 میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی ایک پریزینٹیشن میں فخری زادہ کا نام بالخصوص پیش کیا گیا تھا۔ قتل کی خبر پر ابھی تک اسرائیل سے کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ ایران کی حکومت نے فخری زادہ کی ’شہادت‘ پر انھیں مبارکباد دی ہے






