پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تو تحریک چلائیں گے ‘ آل پرائیویٹ سکولز ایکشن کمیٹی کے دھمکی

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تو تحریک چلائیں گے ‘ آل پرائیویٹ سکولز ایکشن کمیٹی کے دھمکی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ:آل پرائیویٹ سکولز ایکشن کمیٹی نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر نجی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک گیر احتجاجی تحریک سمیت اپوزیشن کے ساتھ مل کر بلوچستان کے قومی شاہراہیں بلاک کردیں گے ایک طرف انٹرنیشنل سکوائش اوپنگ سرمنی میں وزیراعلی بلوچستان سمیت ڈیرھ سے زائد لوگ شریک ہوتے ہیں اور جامعات میں امتحانات جاری ہیں تو دوسری جانب کورونا کا کہہ کر نجی تعلیمی اداروں میںتعلیمی سرگرمیاںاور امتحانات لینے پر پابندی عائد کرنا نجی تعلیمی اداروں کے معاشی قتل کے مترادف ہے حکومت اور بلوچستان ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے ایسے کسی بھی فیصلے کو تسلیم نہیں کریںگے۔ ان خیالات کا اظہار آل پرائیویٹ سکولز ایکشن کمیٹی کے ڈپٹی کنونیئر حافظ نعمت اللہ ، داﺅد شاہ کاکڑ ، ٹکری شفقت لانگو ، زاہد اختر بلوچ و دیگر نے کوئٹہ پریس کلب میںپریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ انہوںنے کہا کہ رواںسال بلوچستان میںپہلے6مہینے سے زائد تک تمام تعلیمی ادارے بند کئے گئے تھے اور اب ایک مرتبہ پھر کورونا پھیلاﺅ کے خدشے کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے نوٹیفکیشنز جاری کئے گئے ہیں بلکہ بلوچستان ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کی جانب سکولوںکو بند کرنے کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جسے کسی صورت بھی قبول نہیں کرسکتے ۔ انہوںنے کہا کہ ایک طرف اس وقت بھی بلوچستان کے جامعات اور کالجز میں امتحانات کا سلسلہ جاری ہے بلکہ وزیراعلی بلوچستان خود گزشتہ روز سکوائش اوپنگ سرمنی میں شریک رہے جس میں ڈیڑھ سے زائد لوگ شریک تھے اور وہاں کورونا پھیلاﺅ کا کوئی خدشہ نہیں تھا مگر دوسری جانب سے نجی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے لئے نوٹیفکیشنز جاری کئے گئے ہیں جو کہ تعلیم دشمنی پر مبنی اقدام ہے ۔ انہوںنے کہا کہ گزشتہ 9مہینے سے حکومت کی جانب سے نجی تعلیمی اداروںکے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا گیا ہے بلکہ نجی تعلیمی اداروںکے لئے مختص ایک ارب 11کروڑ روپے بلوچستان ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے ایم ڈی و دیگر کی جانب سے نجی بینک کو انٹرسٹ(سود)کے لئے دیئے گئے ہیں جس کی ہم پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ نجی تعلیمی ادارے اس وقت مالی بحران کے شکار ہیں ، عمارتوںکے کرایہ اور اساتذہ کی تنخواہیں ادا کرنے کے لئے ان کے پاس فنڈز موجود نہیں مگر حکومت بجائے نجی تعلیمی اداروں کے لئے فنڈز مختص کرے تعلیمی ادارے بند کرنے پر تلی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سکولوں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی اور ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک شروع کریں گے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!