مستونگ ‘ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی اغواء

مستونگ ‘ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی اغواء

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

مستونگ:بلوچستان یونیورسٹی کے تین پروفیسرز مستونگ سے لاپتہ ہوگئے ۔اطلاعات کے مطابق ہفتہ کے روز بلوچستان یونیورسٹی شعبہ براہوئی کے پروفیسر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر لیاقت سنی پروفیسر شبیر شاہوانی پروفیسر اور پروفیسر نظام الدین بلوچ بی اے کے حالیہ جاری امتحانات کے انسپکشن کے سلسلے میں کوئٹہ سے خضدار جارہے تھے کہ انھیں مستونگ کے قریب سے نامعلوم مسلح افراد نے آکر تین ٹوڈی گاڑیوں میں آکر اٹھا کر لے گئے اور براستہ کانک اغبرگ کے حدود میں دو پروفیسر شبیر شاہوانی اور نظام الدین بلوچ کو چھوڑ دیئے جبکہ ڈاکٹر لیاقت سنی کو اپنے ساتھ لے گئے جبکہ پروفیسرز کی گاڑی نواحی علاقہ غلام پڑینز سے برآمد ہوئے انتظامیہ مزید تحقیقات کررہی ہے پروفیسرڈاکٹر لیاقت سنی بلوچستان یونیورسٹی شعبہ کے چیئرمین ہے جبکہ وہ براہوئی زبان میں پی ایچ ڈی کیا ہے اور اس نے براہوئی زبان کے کئی کتابوں کے مصنف بھی ہے جبکہ ادب میں بھی ان کی خدمات ہے وہ براہوئی ادب کے راہ شون کے چیئرمین بھی ہے آخری اطلاعات تک ڈاکٹر لیاقت سنی بازیاب نہیں ہوسکادرین اثناءبازیاب ہونے والے پروفیسز نے پولیس کودئیے ہوئے بیان میں کہاکہ نامعلوم افراد انہیں دو گھنٹے تک گاڑی میں لے کرچلتے رہے اور ہم سے بدتمیزی بھی کرتے رہے چھ کروڑ روپے کی رقم کا مطالبہ کیااوراغواہ کار لیاقت سنی کی تخواہ کا بھی بار بار پوچتے رہے ہمارے تنخواﺅں سے متعلق بھی پوچھتے رہے انھوں نے بتایا کہ اغواہ کاروں نے ہمیں کانک کے علاقے اغبرگ کے قریب چوڑدیا اور پروفیسر لیاقت علی سنی کو ساتھ لے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!