ڈاکٹر لیاقت سنی کو بازیاب کیا جائے ورنہ یکم دسمبر سے امتحانات کا بائیکاٹ کریں گے ‘ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن

ڈاکٹر لیاقت سنی کو بازیاب کیا جائے ورنہ یکم دسمبر سے امتحانات کا بائیکاٹ کریں گے ‘ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ: صدراکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان پروفیسر ڈاکٹرکلیم اللہ بڑیچ نے براہوئی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ پروفیسرڈاکٹرلیاقت سنی کے اغواءکی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مغوی کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے بصورت دیگر بی اے ‘بی ایس سی کے کا یکم دسمبر سے مکمل بائیکاٹ کریں گے یہ بات انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ استاد قوم کے معمار ہوتے ہیں جس کاکام دن رات محنت کرکے درس وتدریس و تحقیق کے ذریعے اپنی زمہ داری پوری کرنا ہے لیکن انتہائی افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ شعبہ براہوئی کے پروفیسر ڈاکٹرلیاقت سنی ،پروفیسر نظام بلوچ اور ڈاکٹرشبیراحمدشاہوانی کو نیشنل ہائی وے مستونگ کے قریب سے نامعلوم افراد نے اغواءکرلیا بعدازاں پروفیسر نظام بلوچ اور ڈاکٹرشبیراحمدشاہوانی کو اغبرگ کے قریب پہاڑوں میںآنکھوں پرپٹی باندھ کر چھوڑدیاگیا جو تقریباتین گھنٹے پیدل سفر کرکے کانک پہنچے اور جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کو آگاہ کیا۔ انہو ں نے کہاکہ اے ایس اے آج سے پروفیسرڈاکٹرلیاقت سنی کی بازیابی کیلئے جامعہ بلوچستان کے جاری بی اے بی ایس سی بشمول تمام امتحانات میں نگران کمیٹی سے بائیکاٹ کا اعلان کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن گورنر بلوچستان، حکومت بلوچستان ،چیف جسٹس پاکستان اورچیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ سے مطالبہ کرتی ہے کہ پروفیسرڈاکٹرلیاقت سنی کو فوری طور پر بحفاظت بازیابی کو یقینی بنائے اگر پروفیسرڈاکٹرلیاقت سنی کو کوئی نقصان پہنچاتو حخومت ذمہ داری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز(فیواسا)کے پلیٹ فارم سے جامعہ بلوچستان کے بی اے بی ایس سی کے جاری امتحانات کا یکم دسمبر سے بائیکاٹ کریگی اور پریس کلب ،صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہروں سمیت گورنرہاوس کے سامنے دھرنادیگی۔گذشتہ روزاغواءکے بعدرہا ہونے والے پروفیسرشبیرشاہوانی نے کہا کہ بحیثیت استاد گزشتہ روز کے واقعہ میں میری تذلیل ہوئی ہے ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح گاڑی میں ڈالا گیاکیا حکمران ،ججز اور ہرطبقے کے لوگ انہی اساتذہ سے تعلیم حاصل کرکے نہیں نکلے کل کے واقعہ کے بعد اگرچہ میں زندہ ہوں مگر اندر سے مرچکا ہوں یہ میرے لئے ناقابل برداشت ہے ۔اس موقع پر بلوچستان پروفسیر زاینڈلیکچر ز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر پروفیسر حمید خان نے بھی بلوچستان اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!