بولان:دوپاسی ہاوس ڈھاڈر میں سادات قبائل کی سرکردہ شخصیت سید نصیراحمد شاہ دوپاسی کی میزبانی اور سردار کمال خان بنگلزئی کی سربرائی میںگر ینڈ جرگے کا انعقادکچھی،خراسان کی سیاسی قبائلی ،سماجی عوامی مسائل کے حل کیلئے” ساراوان پینل” کے نام سے ایک نئی اتحاد کا اعلان کچھی ہم سب کا مشترکہ گھر ہے یہاں کے مسائل کو اپنا سمجھتے ہیں وقت آگیا ہے کہ یہاں کی محکوم اقوام کے حقوق کیلئے کمر بستہ ہوکرمشترکہ جدوجہد کی جائے جس کیلئے ساراوان پینل کے نام سے پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا ہے سیاسی جماعتوں کی وابستگی کے ساتھ ملکر پسے ہوئے طبقات کی نمائندگی کی جائیگی کچھی امن کا گہوارہ رہا ہے دوپاسی ہاوس ڈھاڈر میں پرہجوم پریس کانفرنس ،جرگے سے سابق ایم این اے چیف آف بنگلزئی سردار کمال خان بنگلزئی،سابق صوبائی وزیر نواب محمد خان شاہوانی،سید نصیر احمد شاہ دوپاسی اور دیگر قبائلی زعماءکا خطاب اسموقع پر سردار صالح مینگل،میر حاجی محمود کرد،میر محمد نواز لہڑی،وڈیرہ بشیر احمد چھلگری،سابق وفاقی وزیر میر چنگیز خان جمالی،سردار لیاقت علی کرد،سابق صوبائی وزیر میر یونس ملازئی،سردار زادہ ظفر شاہ دوپاسی،سید زادہ موسن دوپاسی،سید خورشید احمد شاہ دوپاسی،نوابزدہ میر شیر محمد شاہوانی،خیر بخش رئیسانی،سید سلطان شاہ دوپاسی،حاجی منگے خان رائیجہ،ٹکری مراد خان بنگلزئی،میر سرفراز خان بنگلزئی،میر داو¿دجان بنگلزئی،ملی مسلم لیگ کے رانا اشفاق،ٹکری نعمان کرد،ڈھاڈر پریس کلب کے صدر محمد عارف بنگلزئی ،عبدالحئی گولہ ،سبی پریس کلب کے سینئر صحافی میر سلیم گشکوری ،حاجی سعید الدین طارق،میاں یوسف،محمد طاہر،افضال رضا سمیت کچھی کے دیگر قبائلی عمائدین کثیر تعداد میں شریک تھے سردار کمال خان بنگلزئی،نواب محمد خان شاہوانی،سید نصیر شاہ دوپاسی نے کہا کہ کچھی خراسان کی سطح پر ایک ایسی سوچ اپنائی جائے جس میں تمام اقوام کی بلا رنگ نسل ذات مذہب خدمت کی جائے ان علاقوں کی پسے ہوئے عوام کی سیاسی ،سماجی،معاشی حقوق پر قدغن ڈالا گیا عوام کو پسماندہ رکھ کر منفی سوچ کو پروان چڑھایا گیا جس سے بد امنی اورمحکوم اقوام کو مذید پسماندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیایہاں کافی عرصے سےتاریخی علاقوں کوبدترین سیاسی اور سماجی بحران سے دوچار ہونا پڑا اس پلیٹ فارم کوان علاقوں میں بسے تمام قبائلی سیاسی اور سماجی شخصیات کی شمولیت سے متحرک کرکےعوام کی خدمت کو شعار بنایا جائے گا تاکہ یہاں کا سیاسی جمود کو توڑا جائے اسی سلسلے میں مختلف سیاسی جماعتوں،جن میں دیگرقومی پارٹیاں قوم پرست اور مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیںانکے علاوہ سماجی قبائلی شخصیات سے بھی رابطے جاری ہیںمستقبل قریب میں ساروان پینل سے ان علاقوں میں اپنی جدوجہدکو آگے بڑہاتے ہوئے اپنی صلاحتیوں کو بروئے کار لاکر عوام کو متحد منظم کرکے مضبوط عوامی قوت سے انتخابات میں حصہ لیں گے انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہم سب نے مشترکہ جدوجہد کرنے پر اتفاق کیا ہے کچھی مستونگ خراسان کے عوام کے حقوق پر ڈاکے ڈالے گئے ہیں کچھی خراسان ہم سب کا مشترکہ گھر ہے طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں سیاسی طور پر اکھٹا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے اس اتحاد کو محکوم اقوام اور پسے ہوئے لوگوں کی ترجمانی کرنی ہے آج کے جرگہ اور ساراوان پلیٹ فارم کے توسط سے اکھٹا ہونے کا مقصد یہی ہے کہ عوام اور اس حلقے کو ایسا نمائندہ دینا ہے جو دھونس دھمکیوںسے ووٹ نہ خریدے بلکہ شرافت سے ووٹ لیکر جیتے اور عوام کیلئے اسکے دروازے ہر وقت کھلے ہوئے ہوں ہم اپنے محکوم اقوام کے ساتھ ہیں انکے دکھ دردمیں شریک ہیں ہمارے کاروان میں شریک سیاسی اور سماجی مذہبی ساتھیوں کے ساتھ مختلف قسم کے حربے استعمال ہونگے لیکن ہم امید رکھتے ہیں اس اتحاد کے پلیٹ فارم سے محکوم اور پسے ہوئے اقوام کی نمائندگی کرکے انکے حقوق کیلئے جدوجہد کو مذید تیز کیا جائےگا اس موقع پر سابق وفاقی وزیر میر چنگیز خان جمالی،سابق ایم پی اے حاجی محمد ہاشم شاہوانی،میر داو¿د جان بنگلزئی،حاجی منگے خان رائیجہ سردار میر صلاح مینگل،سردارلیاقت علی کرد سمیت دیگر نے بھی خطاب کیابعد ازاں چیف آف بنگلزئی سردار کمال خان بنگلزئی نے کہنہ مشق سینئر صحافی عبد الفتاح بنگلزئی کے چاچا کے وفات پر انکے گھر جاکر لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔






