سردار اختر مینگل جو کل تک پنجابیوں کیخلاف تھے آج انہی کے اتحادی بنے ہوئے ہیں ‘ جام کمال

سردار اختر مینگل جو کل تک پنجابیوں کیخلاف تھے آج انہی کے اتحادی بنے ہوئے ہیں ‘ جام کمال

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ وزیراعظم عمران خان بلوچستان کی عوام کیلئے مثبت وژن رکھتے ہیں وفاق خود کبھی کوئی کام نہیں کرتا بلکہ کرانا پڑتاہے ، گوادر معاشی ،دفاعی ،سیاحتی اوراسٹریٹجک اہمیت کا حا مل ہے لیکن گوادر میں بجلی اور گیس کی فراہمی تک پورٹ کامیاب نہیں کیاجاسکتا،بلوچستان کے حوالے سے بہت زیادہ غفلت کا مظاہرہ کیاگیاہے ،سابقہ ادوار میں وفاق کی جانب سے ہمیشہ یہاں تختی لگائی جاتی تھی لیکن کام نہیں ہوتا تھا لیکن وزیراعظم عمران خان تختی لگانے کے ساتھ کام بھی کررہے ہیں ،سابق وزرائے اعلیٰ صوبے میں کم اپنے حلقے پر زیادہ توجہ دی 2005ءکے بعدبلوچستان کی لاءاینڈآرڈر کی مخدوش صورتحال پر سیاست کی گئی اور لوگوں کو لڑنے کیلئے اکسایاجارہاتھابلوچستان کے قوم پرست لیڈر سرداراخترمینگل جوکل تک پنجابیوں کے خلاف اور آج ان کے اتحادی بنے ہوئے ہیں کیا یہ کھلاتضاد نہیں کہ کل تک غلط اور آج وہ صحیح ہے ،لاپتہ افراد کے مسئلے پر سیاست کرنے والے ان کے ساتھ کھڑے ہیں جن کے دور سب سے زیادہ لوگ لاپتہ ہوئے ہیں اورجن کے دور میں سب سے زیادہ بازیاب ہوئے ہیں ان کے خلاف ہیں ،پی ڈی ایم میں پیپلزپارٹی کے علاوہ تمام جماعتیں سینیٹ الیکشن کیلئے پریشان ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ہم نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔وزیراعلیٰ جام کمال نے کہاکہ سیاست کی آغاز میرے دادا اور پھر میرے والد اس کا حصہ رہے تو اس لئے میں نے بھی سیاست میں حصہ لیابچوں میں میری ایک بیٹی کوسیاست کا شوق ہے شائد ہو اپنے دادا کے رہ قدم پر چل رہی ہو ،میں کام پریقین رکھتاہوں کہ پہلے کام اور پھراس کو دکھایاجائے ،اعلان کیاجائے اور وہ مکمل نہ ہو سال دو سال بعد کا جواب بڑا مشکل ہوتاہے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں غفلت کا بہت زیادہ مظاہرہ کیاگیاہے ماضی کے وزیراعلیٰ بھی ایسے تھے جیسے میں ہوں وفاق خود کبھی کوئی کام نہیں کرتا بلکہ کرانا پڑتاہے غفلت بہت زیادہ رہی ہے دوسری یہ کہ چار لوگ آتے ہیں تو ان کے ذمہ داری لگائی جاتی ہے یہی صورتحال ایک وزیراعلیٰ کی بھی ہوتی ہے جب کوئی وزیراعلیٰ بنا ہے تو انہوں نے اپنے حلقے پر زیادہ توجہ دی ہے کوئی ایسا نہیں کہ اچھا وزیراعلیٰ بن کر تمام صوبے میں یکساں کام کریں اس کا میری سیاسی کارکردگی پرکوئی اثر نہیں پڑے گا،بلوچستان کا بڑا رقبہ اور کم آبادی بھی ایک مسئلہ ہے ایک علاقے کی آبادی تیس ہزار ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کالج دیں ہم فلاں علاقے میں نہیں جائیںگے جبکہ دوسرے علاقے کا بھی یہی صورتحال ہے ،یہاں جب کوئی حکومت آئی ہے انہوں نے اپوزیشن کونظرانداز کیاہے ،ہم نے اپنے اضلاع سے زیادہ اپوزیشن حلقوں کو فنڈز دئےے ہیں گوادر کی اسٹریٹجک ،معاشی ،دفاعی اور سیاحتی اہمیت پورے خطے کیلئے ہے ،گوادر میں آج تک بجلی نہیں بنی اگر سرمایہ دار آئیںگے تو وہ بجلی مانگیںگے اب بجلی کہاں ہے یہاں تین سال بعد بجلی پیدا ہوگی ،ڈیمز بنائے ہیں جس سے پانی کامسئلہ حل ہوگا،گوادر کیلئے ایران سے بجلی لی جارہی ہے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان کیلئے کام کرنے والوں کی تعریف کرنی چاہےے ،گزشتہ پانچ سالوں میں سوائے گوادر پورٹ کوئی بھی پروجیکٹ دکھایاجائے ،پسنی ،اورماڑہ سمیت کہیں بھی کچھ نہیں ،گوادر پورٹ ایک صوبے کیلئے نہیں پورے ملک کیلئے ہے،50بلین ڈالرز سے بلوچستان میں کوئی کچھ نہیں موجودہ حکومت نے ڈھائی سالوں میں ہمیں نولنگ ڈیم جو بلوچستان کادوسرا بڑا ڈیم ہوگا،وندر ڈیم حب جس کاکنسیپٹ 15سال پہلے کی ہے ،15سال سے اس پر کوئی کام نہیں ہوا نہ ہی اس کیلئے فنڈز آئے صرف تختی لگی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ موٹروے کے ویسٹرن روٹ پر میاں نوازشریف نے صرف ایک تختی لگائی اس موقع پرمولانافضل الرحمن ،محمودخان اچکزئی ودیگر بھی موجود تھے لیکن کام شروع نہیں ہوسکا،عمران خان نے تختی بھی لگائی اورکام بھی شروع کرایا اس کے علاوے تعمیراتی منصوبے شامل ہیں ،جنوبی بلوچستان پیکج میں بہت کچھ بلوچستان کودیاگیاہے ،ملک کے پہلے وزیراعظم عمران خان ہے جو تربت میں عوام ،بچوں سے ملے ،اس سے پہلے ہمیشہ جو بھی آئے روڈ تک آئے اور تختی لگا کرواپس چلے گئے انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے بلوچستان ایکسپلوریشن مائننگ کمپنی بنائی ہے سی ای او اور ممبرز انڈیپنڈنٹ ہوںگے ،اسی طرح ایک انرجی کمپنی بنائی ہے جس کے 90فیصد شیئر بلوچستان جبکہ 10فیصد شیئر وفاق کے ہیں یہ کمپنیاں کام کریںگی اور بزنس ماڈل پیش کریںگے ،قوم پرست بڑے سمارٹ ہیں عوام کو ڈراتے ہیں جو ہوگا بھی نہیں سردار اخترجان مینگل کا تعلق سینٹرل بلوچستان سے ہیں لیکن وہ قومی اسمبلی کی نشست کیلئے گوادر سے کھڑے ہیں وہ جیتے ہیں تو وہ نمائندگی کرتے ہیں گوادر والے دیکھتے ہیں کہ تو ووٹ بھی لے گئے اور سیٹ بھی ،گوادر کے لوگوں کو سب سے زیادہ خوف اپنے لوگوں سے ہے چونکہ یہاں سیاسی غلبہ بہت زیادہ مضبوط ہے اور یہاں سنی بھی جاتی ہے ،گوادر کی ایک سیٹ اور تربت کی پانچ سیٹ ہے ،کہاجاتاہے کہ ان کو ڈراﺅ جنہوں نے آنانہیں ہے ،میرا تعلق لسبیلہ سے ہے جو کراچی سے جڑا ہواہے یہاں تو سینکڑوں انڈسٹریز لگی ہے لیکن کوئی باہر سے کونسلر بن کر نہیں آسکتا،بلوچستان میں 2005ءکے بعد لاءاینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوئی جس کوپیدا کرنے میں صوبے میں بہت سارے فیکٹرز کے علاوہ بیرونی ہاتھ بھی شامل تھے اور صوبے میں بہت سے ایسے واقعات ہوئے جنہیں لوگوں نے کیش کیا جو میں نے اپنے ٹویٹر پر بھی شیئر کیاہے سرداراخترمینگل ودیگر لوگوں کو لڑنے کیلئے اکساتے تھے پہلے کہتے تھے کہ ہماری جنگ پنجابیوں کے ساتھ ہے لیکن اب انہی پنجابیوں کے اتحادی بنے ہوئے ہیںکیایہ کھلاتضاد نہیں یہ فیصلہ کرناپڑے گاکہ آیا یہ لوگ اس وقت صحیح تھے یا آج صحیح ہیں ،اقوام متحدہ نے مسنگ پرسنز کو ڈیفائن کیاہے کہ آیا لاپتہ ہونے والے ہوتے کیسے ہیں ،یہاں تواسٹیٹ کے خلاف لڑنے والوں کو لاپتہ افراد میں شامل کیاگیاہے بلکہ ایسے لوگ ہیں جو سوبے میں ہی نہ ہوں،سرداراخترجان مینگل کاایک ایجنڈا لاپتہ افراد کا تھا تو میں نے خان صاحب سے سوال کیاکہ سب سے زیادہ لوگ کس دور میں لاپتہ ہوئے ہیں وہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے دور میں ہوئے ہیں تو ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور سب سے زیادہ لاپتہ افراد بازیاب عمران خان کے دور میں ہوئے تو آپ ان کے خلاف بات کررہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ جب بات ملک کی آتی ہے تو سب کچھ پیچھے رہ جاتاہے ،بہت سے لوگ کیسے پی ڈی ایم کے ساتھ چل رہے ہیں یہ اللہ جانتاہے کیونکہ یہ ان کے دل کے راز ہے ۔وزیراعظم عمران خان بلوچستان کیلئے بہت اچھا کررہے ہیں ،پی ڈی ایم میں پیپلزپارٹی کے علاوہ دیگر تمام جماعتیں سینیٹ الیکشن کیلئے پریشان ہے پیپلزپارٹی اس لئے پریشان نہیں کیونکہ سندھ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیپلزپارٹی کو اتنی اکثریت حاصل نہیں تھی وہ اگر ہاریںگے تو ان کی سینیٹ کی بہت ساری سیٹیں چلی جائیںگی بی این پی مینگل شاید پیپلزپارٹی جس طرف جائیں وہ بھی اسی راہ پر چل پڑے ۔میڈیا کو مینج کرنا بہت مشکل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!