چین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے ذیلی گروہ مجید بریگیڈ کو جلد از جلد اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے قائم مقام ناظم الامور سن لی نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی کوششوں میں بھرپور تعاون کی اپیل بھی کی۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ‘دہشتگردانہ کارروائیوں سے عالمی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات’ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر کے رکن ممالک نے دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے عالمی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس میں چین کی مستقل مندوب کے قائم مقام سربراہ سن لی نے چینی حکومت کا مؤقف پیش کیا۔
خیال رہے کہ پاکستان طویل عرصے سے کالعدم بی ایل اے اور اس کے عسکری ونگ مجید بریگیڈ کو ملکی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے اور اسلام آباد بارہا عالمی برادری سے اس تنظیم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکا ہے۔
چینی مندوب سن لی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک دونوں کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں اور داعش خراسان (آئی ایس-کے) سرحد پار حملے کرنے کی اپنی صلاحیت اور عزم میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔
انہوں نے افغان طالبان انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اپنی انسدادِ دہشتگردی کے وعدوں کی پاسداری کرے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کے تحت درج تمام دہشتگرد تنظیموں اور افراد کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسی کارروائی اس لیے ناگزیر ہے تاکہ افغانستان دوبارہ دہشتگردی کی محفوظ پناہ گاہ نہ بن سکے۔
سن لی نے خبردار کیا کہ دہشتگرد تنظیمیں انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، ڈرونز اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو اکسانے، بھرتی، فنڈنگ اور حملوں کے لیے تیزی سے استعمال کر رہی ہیں، جو عالمی انسدادِ دہشتگردی کوششوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو جدید ٹیکنالوجیز کی نگرانی مضبوط بنانے اور خطرات کی جانچ اور ریگولیٹری نظام کو بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
چینی مندوب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پرتشدد دہشتگردی، نسلی علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہا پسندی، جنہیں چین ‘تین قوتیں’ قرار دیتا ہے، کو ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے سے روکا جانا چاہیے۔
انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو ٹیکنالوجی کی منتقلی، آلات، تکنیکی معاونت، تربیت اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے زیادہ مدد فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ ان کی انسدادِ دہشتگردی صلاحیتیں مضبوط ہو سکیں۔
چینی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کو قراردادوں 1267 اور 2713 کے تحت قائم پابندیوں کے طریقہ کار کو مکمل طور پر بروئے کار لانا چاہیے۔
انہوں نے واضح مطالبہ کیا کہ بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کے ذیلی ونگ مجید بریگیڈ کو جلد از جلد پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے تاکہ عالمی انسدادِ دہشتگردی کوششوں کو تقویت مل سکے۔ سن لی نے دہشتگردی کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی اپنانے پر زور دیتے ہوئے انسدادِ دہشتگردی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے رجحان کے خلاف بھی خبردار کیا، اور عالمی کوششوں کی مؤثریت بڑھانے کے لیے زیادہ یکجہتی اور تعاون کی اپیل کی۔





