کوئٹہ:سابق صوبائی وزیر میرعبدالکریم نوشیروانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران دونوں برادر ملک ہیں ۔ اور پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تجارت چلی آ رہی تھی جس پر قد غن لگا کر سرحدی علاقوں کے لوگوں کو غربت و پسماندگی کے دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔دونوں ممالک سرحدی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کریں اور اسلحہ و منشیات کے سوا اشیائے خورد و نوش کی تجارت پر پابندی اٹھائی جائے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ گورنر مندوخیل اور وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی زاہدان کا دورہ کر کے اپنے ایرانی ہم منصبوں سے ملاقات کر کے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لی¿ے لائحہ عمل طے کریں ۔انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں بسنے والوں کو روزگار کی کوئی سہولت میسر نہیں۔ پڑھے لکھے نوجوان اپنے ڈگریاں اٹھائے روزگار کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں۔ اور حلال رزق سے مایوس ہوکر منفی سرگرمیوں کی جانب مائل ہو جاتے ہیں۔ صوبے کی ترقی کیلئے امن ضروری ہے اور امن کیلئے بلوچستان کے لوگوں بالخصوص نوجوانوں میں پایا جانے والا احساس محرومی دور کیے جانے کے اقدامات اہمیت کے حامل ہیں ۔وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت بلوچستان کو ترقی دے کر ملک کے دیگر صوبوں کے برابر لانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے لیکن بلوچستان منتشر آبادی والا ایک وسیع و عریض صوبہ ہے۔ اتنے بڑے علاقے میں ترقیاتی کاموں کو تکمیل تک پہنچانا صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں۔اس کیلئے وفاقی حکومت کی خصوصی توجہ اور اسپیشل پیکیج ضروری ہے ۔ صوبے کی فوری ترقی کیلئے وفاقی حکومت خصوصی پیکیج کا اعلان کرے تاکہ یہاں جاری ترقیاتی کاموں کی معیاری اور بروقت تکمیل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر کی بندش پر عائد پابندی ہٹانے کے علاوہ زراعت کو فروغ دے کر بے روزگاری کے منفی اثرات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ صوبائی حکومت نے اگرچہ اپنے بجٹ میں زرعی مقاصد کیلئے سولر ز کی خریداری اور زمینداروں کی بہبود کیلئے فنڈز رکھے ہیں۔ نئے مالی سال کا ایک مہینہ گزر چکا ہے۔ بجٹ میں مختص فنڈز کا بروقت اور درست استعمال یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔






