سنتھیا کی رحمٰن ملک پر مقدمے کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم

سنتھیا کی رحمٰن ملک پر مقدمے کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکی شہری و بلاگر سنتھیا رچی کی رحمٰن ملک کے خلاف اندراجِ مقدمہ کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالتِ عالیہ نے سنتھیا ڈی رچی کی اندراجِ مقدمہ کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف پٹیشن بھی منظور کر لی۔جسٹس آف پیس نے 5 اگست کو اندراجِ مقدمہ کی درخواست مسترد کی تھی۔
عدالت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس آف پیس نے 5 اگست کے فیصلے میں اختیارات سے تجاوز کیا، عدالت نے آرڈر پاس کرتے وقت قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو مدِ نظر نہیں رکھا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رحمٰن ملک کے خلاف اندراجِ مقدمہ کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، سنتھیا ڈی رچی کی رحمٰن ملک کے خلاف اندراجِ مقدمہ کی درخواست کو زیرِ التواء تصور کیا جائے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں سیشن جج کو سنتھیا رچی کی درخواست پر سماعت کے لیے معاملہ جسٹس آف پیس کو بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں حکم دیا ہے کہ 5 اگست کا فیصلہ سنانے والے جج کے پاس کیس دوبارہ نہ بھیجا جائے، فریقین کو سن کر 3 ہفتوں میں مقدمے کے اندراج کی درخواست پر فیصلہ کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!