رپورٹ ؛ظفر بلوچ
کہتے ہیں کہ موجودہ ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کے دور میں دنیا کا مقابلہ صرف تعلیم سے ہی کیا جاسکتا ہے مگر دنیاکے دو بڑے کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹس سیندک اور ریکودک جس علاقہ میں موجود ہیں بدبختی سے وہاں کے لوگ میٹرک کرنے کے بعد علاقہ میں کالج نہ ہونے کی وجہ سے اکثر غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلباءوطالبات پرائیوٹ فیس نہ ہونے اور قریبی شہردالبندین مزید تعلیم حاصل کرنے کی مالی طاقت نہیں رکھتے.
جس سے مجبورا انھیں تعلیم کو خیرباد کرناپڑتاہے 2013 میں بلوچستان حکومت کی جانب سے انٹر کالج خان محمدعمرخان سنجرانی کے نام سے منظور ہوئی اور جہاں دس کروڑ روپوں کے قریب وسیع علاقہ میں بلڈنگ تعمیر کرنے کا آغاز تو ہوا مگر 6 سال گزرنے کے باوجود تاحال مکمل نہیں کیا جاسکا.
ستم یہاں تک کہ بلڈنگ میں غیرمعیاری اور ناقص میٹیریل استعمال کرنے سے اندیشہ ہے کہ کلاسز شروع ہونے سے پہلے ہی کالج بلڈنگ زمین ہوکر کھنڈرات میں تبدیل نہ ہو کالج میں داخلہ لینے اور کلاسز شروع کرنے کے لئے 2015 میں تین لیکچررز کی تعنیاتی بھی ہوئی تھی کہ وہ بلڈنگ تیار ہونے تک کسی متبادل جگہ کلاسز شروع کرسکیں مگر لیکچررز صرف ایک دن نوکنڈی آکرحاضری رپورٹ دے کر اپنے گھروں کولوٹ گئے.
جہاں وہ چار سالوں سے سرکار سے مفت میں تنخواہیں وصول کررہے ہیں اہلیاں نوکنڈی نے مطالبہ کیاہے کہ خان محمدعمرخان انٹر کالج نوکنڈی میں ناقص اور غیرمعیاری کام کا نوٹس لیکر اسکی انکوائری کی جائے اور مکمل کرنے کے لئے ٹھیکیدار کو پابندکیاجائے اور عارضی طور پر کالج میں داخلہ شروع کرکے تعینات لیکچررز کو نوکنڈی میں کلاسز شروع کرنے کےاحکامات پر سختی سے عملدرآمدکرایاجائے.






