کاروبار 6بجے بندکرنیکا فیصلہ مسترد، تاجروں کی احتجاج کی دھمکی

کاروبار 6بجے بندکرنیکا فیصلہ مسترد، تاجروں کی احتجاج کی دھمکی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کراچی کے تاجروں نے مارکیٹوں کے اوقات کار میں تبدیلی کیلئے 72 گھنٹے کا الٹی ميٹم دے دیا، مطالبات نہ ماننے پر حکومت کیخلاف سڑکوں پر آنے کی دھمکی دے دی۔ سندھ حکومت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث کراچی سمیت صوبہ بھر میں تجارتی مراکز، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز شام 6 بجے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ سندھ میں آج کرونا وائرس سے مزید 19 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ تقریباً 4 ماہ بعد 1400 سے زائد نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، کراچی میں 5 ماہ بعد کرونا وائرس کے 1100 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، صوبہ بھر میں مہلک وباء سے اموات 2885 تک پہنچ گئیں۔ صدر آل کراچی تاجر اتحاد عتیق میر نے کاروباری مراکز 6 بجے بند کرنے سے متعلق حکومتی فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹوں کے اوقات کار تبدیل نہ ہوئے تو ہم سڑکوں پر نکليں گے، حکومت نے 3 دن میں فیصلہ واپس نہ لیا تو احتجاج کریں گے، اس شہر کو تباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے جسے ناکام بنادیں گے۔ تاجر رہنماء شیخ حبیب کا کہنا تھا کہ وفاق نے پورے ملک میں مارکیٹیں 10 بجے بند کرنے کا اعلان کیا مگر سندھ حکومت 6 بجے ہی مارکیٹیں بند کرارہی ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ کراچی میں ہوٹلز اور ریسٹورانٹس میں انڈور ڈائننگ پر پابندی صدر الیکٹرونکس مارکیٹ ایسوسی ایشن عرفان رضوان نے کہا ہے کہ ہم صبح 10 بجے سے رات 8 بجے تک کاروبار کرنا چاہتے ہیں، جسے سندھ حکومت ماننے کو تیار نہیں، ہم کرونا سے مرنے کو تیار ہیں مگر بھوک سے نہیں۔ تاجر رہنماء جمیل پراچہ کا کہنا تھا کہ جمعہ کو مارکیٹیں ہر صورت کھولیں گے، اگر انتظامیہ کی جانب سے زبردستی کی گئی اور گرفتاریاں ہوئیں تو تمام صورتحال کی ذمہ دار سندھ حکومت ہوگی، دکانوں کے باہر ہی دھرنا دے کر بیٹھ جائیں گے۔ مزید جانیے : کراچی میں نوکریاں سندھودیش کےلوگوں کیلیےہیں، خالد مقبول ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں میرج ہال ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس میں سندھ حکومت کے فیصلوں پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پيپلز پارٹی کراچی کو سندھوديش بنارہی ہے، کراچی میں سندھو دیش کی کوئی بدمعاشی برداشت نہیں کریں گے، بلدیات مقامی حکومت ہوتی ہے مگر اس میں 70 فیصد لوگ باہر کے ہیں، کراچی کی تجارت تباہ کرنے پر پیپلزپارٹی مبارکباد کی مستحق ہے، سندھ حکومت سے کوئی بھی مطالبہ کرنا منہ کالا کرانے کے مترادف ہے۔ کروناوائرس کاپھیلاؤ، سندھ بھر میں مزارات کی بندش کا فیصلہ ایم کیو ایم رہنماء نے سندھ پولیس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاجروں کے پاس نہ جائے، پولیس والوں کو تاجروں کو تنگ کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے، پوليس، انتظاميہ اور بيورو کريسی ايک ہی نيت سے کراچی کو نشانہ بنارہے ہيں۔ اپوزيشن ليڈر فردوس شميم نقوی نے بھی بازار شام 6 بجے بند کرنے کے حکومتی فيصلے کی مخالفت کردی۔ سندھ اسمبلی کے باہر ميڈيا سے گفتگو ميں وزيراعلیٰ مُراد علی شاہ کو کڑی تنقيد کا نشانہ بنايا۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے وزيراعلیٰ کے دماغ پر کرونا کا اثر ہوا ہے، ہم تو کہتے ہيں 24 گھنٹے کيلئے بازار کھول دو، رش ہی نہيں لگے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!