ظلم تب تک تھمنے کا نام نہیں لیتا جب تک مزاحمت نہ کی جائے ‘ پروگریسیو یوتھ الائنس

ظلم تب تک تھمنے کا نام نہیں لیتا جب تک مزاحمت نہ کی جائے ‘ پروگریسیو یوتھ الائنس

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ:پروگریسیو یوتھ الائنس کے زیر اہتمام اسٹوڈنٹس ڈے آف ایکشن کی مناسبت سے ملک بھر کی طرح صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری مہنگی تعلیم اور فیسوں کی جبری وصولی تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی ،صنفی جبر اور تشدد اور آئی ایم ایف اور سامراجی اداروں کی ایماءپر ریاستی وقومی جبر اور حکمران طبقے کے عوام دشمن سیاست کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی اور کوئٹہ پریس کلب کی جانب سے احتجاجی دھرنا دیا گیا اس موقع پر طلباءتنظیموں کے رہنماﺅں کامریڈ باسط ،مزدور تنظیموں کے عبدالسلام ماما،پیرمحمد کاکڑ ودیگر نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس بھوک اور بے روزگاری سے مرنے کیلئے کروڑوں لوگوں کو بے یار ومددگار چھوڑ دیا گیا ہے علاج کو کاروبار ،آن لائن تعلیم کے نام پر طلباءکو سہولیات فراہم کئے بغیر بھاری فیسیں وصول کئے جارہے ہیں کورونا کے نام پر تعلیمی ادار ے بند کر دیئے گئے جس کے بعد دوبارہ تعلیمی ادارے کھول کر فیسیں وصول کی گئی اور دوبارہ کورونا کے نام پر تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا ہے لاک ڈاﺅن کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کیخلاف آج ملک بھر میں طلباءو طالبات کسان اور مزدور سراپا احتجاج ہیں انہوں نے کہا کہ جب تک ظلم جاری رہتا ہے اور اس کے خلاف مزاحمت نہ ہوں تو وہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لیتا لیکن اس کے خلاف مزاحمت ہو تو پھر ظلم کے دن کم ہوجاتے ہیں انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے ہمیں نکلنا ہوگا انہوں نے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی بجٹ میں 5گناہ اضافہ کر کے سال 2021میں تمام پرائیویٹ وسرکاری تعلیمی اداروں میں فیسیں لینے پر پابندی اور طلباءکو مفت تعلیم دی جائے خلاف ورزی پر مذکورہ ادارے کو سیل کیا جائے آن لائن تعلیم کیلئے طلباءکو مفت انٹر نیٹ ،لیپ ٹاپ اور دیگر سہولیات فراہم کی جائے تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر جنسی ہراسگی اور زیادتی کی واقعات کی روک تھام کیلئے طلباءاورمحنت کشوں کی کمیٹیا تشکیل دی جائیں معاشی بحران میں بے روزگار ہونے والوں کی تعداد کا تخمینہ لگا کر انہیں روزگار یا پھر 20ہزار بے روزگاری لاﺅنس کے ساتھ گھروں کے کرایہ ادا نہ کرسکنے والے خاندانوں کی ذمہ داری حکومت لیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی ایم ایف سامراجی تعلیمی ادارے اور ان کے گماشتہ حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کو نا منظور کر کے بجلی ،گیس اور پانی کے بل ایک سال کیلئے ختم کئے جائیں سرکاری ہسپتال کی نجکاری کا خاتمہ کر کے صحت کے بجٹ میں کم از کم 5گناہ اضافہ اور ریاستی اور قومی جبر کا خاتمہ کیا جائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!